ہاکی ٹیم کے کھلاڑی کو یومیہ کتنے ڈالرز الاؤنس ملے گا؟ پی ایس بی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو یومیہ 115 ڈالرز الاؤنس ادا کیا جائے گا۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ٹیم کی روانگی سے قبل یہ ادائیگیاں جاری کی جائیں تاکہ بین الاقوامی دورے کے دوران کھلاڑیوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی محمد یاسر پیرزادہ نے کہا کہ یومیہ الاؤنس کی منظوری حکومت کی جانب سے منظور شدہ بجٹ کے مطابق دی گئی ہے اور یہ فیصلہ ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پاکستان کی شرکت پر لاگو ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود پی ایس بی نے مختلف ذریعوں سے بچنے والی رقوم کو ازسرِنو مختص کرکے غیر ملکی دورے کے لیے ادائیگیوں کا انتظام کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کے لیے بہتر انتظامات یقینی بنائے جا سکیں۔
مزید پڑھیںپرو ہاکی لیگ کے دوسرے راؤنڈ کیلٸے قومی ہاکی ٹیم کا اعلان
قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر کھلاڑیوں کے تحفظات دور کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مختلف امور پر ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ موجودہ سرکاری بجٹ کے تحت منظور کی گئی نئی شرح مناسب ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یومیہ الاؤنس کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ پرو لیگ کے دوسرے مرحلے میں 10 فروری کو آسٹریلیا، 11 فروری کو جرمنی، 13 فروری کو ایک بار پھر آسٹریلیا اور 14 فروری کو جرمنی کے خلاف میدان میں اترے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس بی ہاکی ٹیم فروری کو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔