الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج، 8 فروری کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سربراہ تحفظِ تحریکِ آئینِ پاکستان محمود خان کی جانب سے 8 فروری کو مبینہ الیکشن دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 8 فروری کو مکمل شٹر ڈاؤن کی تیاری شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کڑی شرط عائد کردی
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاج ہو گا اور پارٹی نے تمام قیادت کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، عمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ موومنٹ کی قیادت کر رہے ہیں اور لاہور اور سندھ کا دورہ بھی کر چکے ہیں جس سے پارٹی کے مطابق ورکرز کافی حد تک متحرک ہو گئے ہیں اور 8 فروری کے احتجاج میں شرکت میں مدد ملے گی۔
8 فروری کو پی ٹی آئی کیا کر رہی ہے؟پاکستان تحریک انصاف کے مطابق پارٹی بانی عمران خان نے احتجاج کا اختیار اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے جن کے اعلان پر پی ٹی آئی عمل کرے گی۔
پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے 8 فروری کے حوالے سے کوئی علیحدہ فیصلہ نہیں کیا بلکہ محمود خان اچکزئی کے اعلان پر احتجاج کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اختیار ان دونوں رہنماؤں کو دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جو کہیں گے ہم وہی کریں گے۔ انہوں نے احتجاج کی کال دی ہے، بس نکلیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ کال محمود خان اچکزئی نے دی ہے لیکن احتجاج عمران خان کے لیے ہو گا۔ ان کے مطابق احتجاج میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار اہم ہوگا۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے وی نیوز کو بتایا کہ 8 فروری کو احتجاج کی کال محمود خان اچکزئی نے دی ہے اور پاکستان تحریک انصاف اس کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو 2 سال مکمل ہو چکے ہیں اور اس دن پورے ملک میں احتجاج ہو گا۔
بلوچستان سے خیبر تک احتجاج ہوگا؟شفیع جان نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاج ہو گا اور پی ٹی آئی کے ورکرز بڑی تعداد میں اپنے اپنے شہروں میں نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے لے کر خیبر تک پورے ملک میں احتجاج ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی تیاریاں مکمل ہیں اور ورکرز مبینہ دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرلے، پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، طلال چوہدری
پاکستان تحریک انصاف یوتھ کے رہنما اور سابق مشیر وزیراعلیٰ ڈاکٹر شفقت ایاز نے بتایا کہ 8 فروری کو ملک گیر احتجاج ہو گا۔
ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ شٹر ڈاؤن احتجاج ہو گا، پورا ملک جام ہو گا۔
کیا اسلام آباد مارچ کا ارادہ ہے؟پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنما 8 فروری کو خیبر پختونخوا کے بجائے اسلام آباد میں احتجاج کے خواہشمند ہیں۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر رہنما نے بتایا کہ احتجاج کے کچھ خاص فوائد سامنے نہیں آ رہے جس کی وجہ سے ورکرز بھی مایوس ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس بار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹریٹ موومنٹ کے تحت ورکرز کو بڑی حد تک متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہر بار احتجاج ہوتا ہے اور چوں کہ یہاں پارٹی کی حکومت ہے اس لیے کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل چیلنج دوسرے صوبوں میں احتجاج کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی میٹنگز میں کچھ رہنماؤں نے اسلام آباد یا راولپنڈی میں احتجاج کا مشورہ دیا تھا لیکن اس پر اتفاق نہیں ہو سکا اور مؤقف اپنایا گیا کہ احتجاج کہاں اور کب ہو گا اس کا فیصلہ محمود خان اچکزئی کریں گے۔
تاہم شفیع جان نے بتایا کہ اس بار اسلام آباد مارچ یا اسلام آباد میں احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام شہروں میں احتجاج ہو گا۔
مزید پڑھیں: عمر ایوب کا پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شمولیت سے انکار، ’میری جگہ محمود اچکزئی کو شامل کریں‘
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ورکرز پر تشدد ہوتا ہے اور گولیاں چلائی جاتی ہیں جس سے ورکرز کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ورکرز پر گولیاں چلائی گئیں اور اس بار بھی چلائی جا سکتی ہیں اس لیے اسلام آباد کا رخ نہیں کیا جائے گا۔
’کمل شٹر ڈاؤن احتجاج ہو گا‘
پی ٹی آئی یوتھ کے رہنما ڈاکٹر شفقت ایاز نے بتایا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: اے این پی کو دھاندلی سے ہرایا گیا، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کو گھر بھیجنا ہوگا، ایمل ولی خان
پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی اپنے فیصلے خود نہیں کر رہی بلکہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی جانب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ دھاندلی پی ٹی آئی کا مسئلہ ہے اور پی ٹی آئی اس سے متاثر ہوئی ہے جبکہ محمود خان اچکزئی کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔
رہنما نے کہا کہ تیاریاں ہم کریں گے، ورکرز ہمارے ہوں گے، تشدد ہمارے ورکرز پر ہو گا لیکن اعلان اور مرضی دوسروں کی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اندرونی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر مایوسی بڑھ رہی ہے۔
“ان کا کہنا تھا کہ ورکرز کو کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا اورعلی امین گنڈاپور کے اقدامات کے بعد سہیل آفریدی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور
انہوں نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ 8 فروری کو ورکرز نکلیں گے اور احتجاج بھی ہو گا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 فروری پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی احتجاج پی ٹی آئی یوم سیاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی احتجاج پی ٹی ا ئی یوم سیاہ پورے ملک میں احتجاج ہو گا پاکستان تحریک انصاف کہ محمود خان اچکزئی بتایا کہ 8 فروری کو نے بتایا کہ 8 فروری انہوں نے کہا کہ مبینہ دھاندلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اسلام آباد پی ٹی ا ئی احتجاج کا پی ٹی آئی کے مطابق نکلیں گے شٹر ڈاؤن ہیں اور نہیں ہو رہی ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک