data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی :امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے خوفناک سانحے اور 80 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری ایک بچے پر ڈال کر سندھ حکومت اور قابض میئر اپنی ناکامیوں سے نہیں بچ سکتے۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی فراڈ ہے کیونکہ خود وہ اس معاملے میں جوابدہ ہیں۔ جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

یہ بات انہوں نے امیر ضلع وسطی وجیہ حسن اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ حیدری مارکیٹ میں جماعتِ اسلامی کے کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ منعم ظفر خان نے تاجروں اور دکانداروں سے ملاقاتیں کیں اور یکم فروری کو دن 3 بجے شاہراہ فیصل پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی  جینے دو کراچی مارچ  میں شرکت کی دعوت دی، جس پر تاجروں نے مکمل حمایت اور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں چار دن تک آگ لگی رہی، حکومتی ادارے انتظار کرتے رہے کہ آگ خود بجھ جائے۔ فائر ٹینڈر میں کبھی پانی نہیں تھا، کبھی ڈیزل موجود نہیں تھا، واٹر ٹینکر ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچا، یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ آج بھی 10 سے 11 خاندان اپنے پیاروں کی باقیات کے منتظر ہیں، یہ کیسا ریسکیو نظام ہے؟

منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ کراچی کو لاوارث شہر بنا دیا گیا ہے، حالانکہ کراچی قومی خزانے کو 67 فیصد ریونیو اور صوبائی بجٹ کا 95 فیصد فراہم کرتا ہے جبکہ ملک کی 54 فیصد ایکسپورٹ بھی کراچی سے ہوتی ہے۔ اس کے باوجود آدھا شہر پانی سے محروم ہے، سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں اور شہری آئے روز حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ 2005 میں شروع ہوا مگر آج 2026 میں بھی مکمل نہیں ہو سکا، کے سی آر، گرین لائن اور ریڈ لائن منصوبے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔ ریڈ لائن منصوبہ جو 2024 میں مکمل ہونا تھا، اب 79 ارب سے بڑھ کر 300 ارب تک جا پہنچا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ہونے والا ”جینے دو کراچی مارچ“ اہلِ کراچی کے حقوق کے لیے ایک فیصلہ کن آواز ثابت ہوگا۔

وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی