ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ کراچی میں طلباءکے ساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی:
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جامعہ کراچی میں طلباء اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست کی، جہاں پہنچنے پر اساتذہ، طلباء اور فیکلٹی ممبران نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔
خصوصی نشست کے دوران اساتذہ اور طلباء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے۔
اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ بغیر تحقیق معلومات پھیلانا معاشرتی انتشار اور غلط فہمیوں کا سبب بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کا تعلیمی اداروں سے رابطہ نوجوانوں کے اعتماد اور قومی سوچ میں اضافہ کرتا ہے۔
طلباء نے بھی اس نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ملک کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور سوشل میڈیا پر دشمن کے گمراہ کن بیانیے کو ناکام بنائیں گے۔
طلباء کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سوشل میڈیا پر مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن مہمات سے آگاہی کے حوالے سے گفتگو انتہائی سیر حاصل رہی۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے قومی یکجہتی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے ایسے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔