پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مرمو کی تقریر مایوس کن اور کھوکھلے وعدوں سے بھرپور، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
تقریر مودی حکومت کے ذریعہ لکھی جاتی ہے اور کابینہ کے ذریعہ اسے منظور کیا جاتا ہے۔ اس تقریر میں کوئی نظریہ موجود نہیں تھا، صرف حکومت کے نام نہاد منصوبوں کی ایک فہرست پڑھی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے 28 جنوری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی پیش کردہ تقریر کے بعد مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے ذریعہ تیار کی گئی تقریر مایوس کن اور کھوکھلے وعدوں سے بھرپور تھی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرنے والی مودی حکومت نے منریگا کو ختم کر دیا اور کروڑوں لوگوں کے ذریعہ معاش کو ختم کر دیا۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال مرکزی کابینہ صدر جمہوریہ کی تقریر کو ایک "ریسائیکل ریچوئل" کی طرح پاس کر دیتی ہے اور بغیر کسی سچائی یا ذمہ داری کے انہی دعووں کو دوبارہ استعمال کرتی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ وِکست بھارت کا نعرہ زور و شور سے دہرایا جاتا ہے، پھر بھی اس میں کوئی واضح ہدف، کوئی واضح مدت کار دکھائی نہیں دیتی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے "منریگا" ختم کئے جانے پر اپنی نارضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پر بڑی بڑی تقریریں کرتے ہوئے غریب مخالف اور سرمایہ دار حامی مودی حکومت نے منریگا کو بے رحمی سے ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ایکٹ تھا جو کام کے حق کی گارنٹی دیتا۔ اسے ختم کر کروڑوں مزدوروں کا ذریعہ معاش چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ یہ کیسا "وِکست بھارت" ہے جہاں غریبوں کو زندہ رہنے کے وسائل سے محروم کر دیا جاتا ہے اور نعروں کے لیے عزت کی قربانی دے دی جاتی ہے۔
صدر جمہوریہ کی تقریر پر کانگریس کے سینیئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں سے پارلیمنٹ احاطہ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ صرف انہی چیزوں کو دہرایا گیا جو وہ پہلے کہہ چکی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکومت کے ذریعہ تیار کردہ پوری طرح سے کھوکھلی تقریر تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے اس سلسلے میں کہا کہ عزت مآب صدر جمہوریہ اس تقریر کے لئے صرف حکومت کی ترجمان ہیں۔ تقریر حکومت کے ذریعہ لکھی جاتی ہے اور کابینہ کے ذریعہ اسے منظور کیا جاتا ہے۔ اس تقریر میں کوئی نظریہ موجود نہیں تھا، صرف حکومت کے نام نہاد منصوبوں کی ایک فہرست پڑھی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت کے ذریعہ صدر جمہوریہ مودی حکومت انہوں نے جاتا ہے ہے اور کہا کہ کر دیا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔