افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر)افغان طالبان حکومت نے اظہارِ رائے کی آزادی پر مزید قدغنیں عائد کرتے ہوئے میڈیا پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر پہلے سے عائد پابندیوں کے بعد اب میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ اقدامات افغانستان میں آزادی اظہار رائے کو دبانے اور میڈیا پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کی ایک منظم اور مذموم کوشش کا حصہ ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے دور میں میڈیا سپورٹ ادارے پہلے ہی دھمکیوں، سخت پابندیوں اور سنگین مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ طالبان کے یہ انتہا پسندانہ اقدامات میڈیا کو زیادہ مؤثر اور منظم بنانے کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں اور درحقیقت آزاد صحافت کو خاموش کرانے کی کوشش ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی آمرانہ سوچ اور غیر منصفانہ فیصلوں نے آزاد میڈیا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صحافت مزید غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت جوابدہی، شفافیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دبانے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پر شکنجہ مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان میں میڈیا پر عائد پابندیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سچ، اختلافِ رائے اور عوامی شعور کو ختم کرنے کی خطرناک کوشش ہیں، جو ملک میں آزادیوں کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمنسٹی انٹرنیشنل میڈیا پر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔