data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک) ملکی صنعتی ترقی کا ایک انتہائی اہم اور موثر مرکز ہے اور حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں صنعتکار برادری کے مسائل کے حل کے لیے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔فیڈمک دورہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ فیڈمک میں موجود رکاوٹوں کو دور کرکے اسے مزید فعال، مستحکم اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق ضلع چنیوٹ سے ہے، جو دنیا بھر میں اپنے معیاری فرنیچر کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اسی لیے وہ صنعت کی اہمیت اور صنعتکاروں کو درپیش عملی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے کیونکہ صنعت کا فروغ ہی ملکی معیشت کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ خود ایک صنعتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کاروباری برادری کے مسائل کو محض کاغذی نہیں بلکہ زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل دونوں جانب سے ہوتے ہیں، مگر ملک ہم سب کا ہے اور موجودہ چیلنجز کے باوجود ہمیں مل کر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، معیشت میں بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور وزیر خزانہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل رابطے میں رہیں اور صنعتکاروں کو جہاں جہاں مشکلات کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مجموعی طور پر سازگار ماحول موجود ہے اور رواں سال کے دوران ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے؎؎اس سے قبل چیئرمین فیڈمک رانا اظہر وقار نے وفاقی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیڈمک میں 2025 تک 90 فیکٹریاں قائم ہو چکی تھیں، اس کے بعد 26 نئی فیکٹریاں لگائی جا چکی ہیں جبکہ 31 فیکٹریوں کے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیڈمک میں صنعتکاروں کے لیے سازگار ماحول موجود ہے اور ملکی صنعتکار اس انڈسٹریل زون میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ڈاکٹر ارفع اقبال، سی ای او فیڈمک قرۃ العین اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔بعد ازاں وفاقی وزیر معروف صنعتکار میاں منشاء کی فیکٹری بھی گئے اور ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ فیڈمک ملک کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے اور ان کے دورے کا مقصد اس کا تفصیلی جائزہ لے کر بہتری کے امکانات کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کنٹینرز کی براہ براست کراچی پورٹ سے فیڈمک تک ترسیل، لاگت میں کمی، ریل کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن اور فیصل آباد، چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں کو ریلوے لنک سے جوڑنے جیسے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔میاں منشاء نے ان منصوبوں کے لیے فزیبلٹی تیار کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی فنڈنگ یا فنانسنگ درکار ہو تو وہ اس سلسلے میں تعاون کریں گے تاکہ یہ منصوبے تیزی سے مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی زون کو مکمل طور پر ڈویلپ کیا جائے اور باقی ماندہ اراضی کو بھی جلد از جلد صنعتی سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ، نائب صدر عاصم منیر اور دیگر ممبران سے ملاقات کی، جس میں صنعتکاروں نے انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔صدر چیمبر فاروق شیخ نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات اور پالیسی مسائل کے باعث 150 سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں، ڈیڑھ لاکھ کے قریب مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں اور متعدد صنعتکار اپنی ملیں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعت چلے گی تو ہی ملک آگے بڑھے گا، اس لیے پالیسیوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے صنعتکاروں کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل بالکل درست ہیں اور حکومت انہیں نظرانداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فیڈمک سمیت تمام صنعتی زونز کو مزید موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری وفاقی وزیر کے مسائل کہ فیڈمک کے لیے ہے اور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان