سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، قیصر احمد شیخ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک) ملکی صنعتی ترقی کا ایک انتہائی اہم اور موثر مرکز ہے اور حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں صنعتکار برادری کے مسائل کے حل کے لیے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔فیڈمک دورہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ فیڈمک میں موجود رکاوٹوں کو دور کرکے اسے مزید فعال، مستحکم اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق ضلع چنیوٹ سے ہے، جو دنیا بھر میں اپنے معیاری فرنیچر کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، اسی لیے وہ صنعت کی اہمیت اور صنعتکاروں کو درپیش عملی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے کیونکہ صنعت کا فروغ ہی ملکی معیشت کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ خود ایک صنعتکار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے کاروباری برادری کے مسائل کو محض کاغذی نہیں بلکہ زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل دونوں جانب سے ہوتے ہیں، مگر ملک ہم سب کا ہے اور موجودہ چیلنجز کے باوجود ہمیں مل کر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، معیشت میں بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور وزیر خزانہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل رابطے میں رہیں اور صنعتکاروں کو جہاں جہاں مشکلات کا سامنا ہے ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مجموعی طور پر سازگار ماحول موجود ہے اور رواں سال کے دوران ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے؎؎اس سے قبل چیئرمین فیڈمک رانا اظہر وقار نے وفاقی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فیڈمک میں 2025 تک 90 فیکٹریاں قائم ہو چکی تھیں، اس کے بعد 26 نئی فیکٹریاں لگائی جا چکی ہیں جبکہ 31 فیکٹریوں کے ترقیاتی کام جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیڈمک میں صنعتکاروں کے لیے سازگار ماحول موجود ہے اور ملکی صنعتکار اس انڈسٹریل زون میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ ڈاکٹر ارفع اقبال، سی ای او فیڈمک قرۃ العین اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔بعد ازاں وفاقی وزیر معروف صنعتکار میاں منشاء کی فیکٹری بھی گئے اور ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ فیڈمک ملک کا سب سے بڑا صنعتی زون ہے اور ان کے دورے کا مقصد اس کا تفصیلی جائزہ لے کر بہتری کے امکانات کو عملی شکل دینا ہے۔ انہوں نے کنٹینرز کی براہ براست کراچی پورٹ سے فیڈمک تک ترسیل، لاگت میں کمی، ریل کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن اور فیصل آباد، چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں کو ریلوے لنک سے جوڑنے جیسے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔میاں منشاء نے ان منصوبوں کے لیے فزیبلٹی تیار کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی فنڈنگ یا فنانسنگ درکار ہو تو وہ اس سلسلے میں تعاون کریں گے تاکہ یہ منصوبے تیزی سے مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صنعتی زون کو مکمل طور پر ڈویلپ کیا جائے اور باقی ماندہ اراضی کو بھی جلد از جلد صنعتی سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ، نائب صدر عاصم منیر اور دیگر ممبران سے ملاقات کی، جس میں صنعتکاروں نے انہیں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔صدر چیمبر فاروق شیخ نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات اور پالیسی مسائل کے باعث 150 سے زائد صنعتیں بند ہو چکی ہیں، ڈیڑھ لاکھ کے قریب مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں اور متعدد صنعتکار اپنی ملیں بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صنعت چلے گی تو ہی ملک آگے بڑھے گا، اس لیے پالیسیوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے صنعتکاروں کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل بالکل درست ہیں اور حکومت انہیں نظرانداز نہیں کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فیڈمک سمیت تمام صنعتی زونز کو مزید موثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری وفاقی وزیر کے مسائل کہ فیڈمک کے لیے ہے اور
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں