امید ہے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کی جانب بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے، تاہم اس کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا کے کئی بڑے اور طاقتور جنگی جہاز ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں، لیکن امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایران سے مذاکرات ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی بات چیت کا امکان موجود ہے۔
مزید پڑھیںٹرمپ کی ہر ممکن پروموشن کے باوجود اہلیہ میلانیا کی بائیوگرافی ریلیز سے پہلے ہی فلاپ
ٹرمپ کی دھمکی نہ چلی؛ ایران میں اسرائیل کیلیے جاسوسی پر ایک اور شخص کو پھانسی
ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں؛ جرمنی بھی ٹرمپ کی زبان بولنے لگا
امریکی صدر نے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی تعاون برطانیہ کی سلامتی اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور اتحادی ممالک کو چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔
کیوبا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں کیوبا کی موجودہ حکومت زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔