Express News:
2026-07-24@08:16:49 GMT

گل پلازہ آگ ، غزہ امن بورڈ میں شمولیت

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

پچھلے دنوں بہت سے اہم واقعات رونماء ہوئے لیکن ان میں سے دو واقعات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جن کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کراچی میں گُل پلازہ میں لگنے والی آگ بہت افسوس ناک تھی۔بیسیوں گھر اجڑ گئے اور سیکڑوں کاروبار تباہ ہو گئے۔بین الاقوامی میدان میں ٹرمپ کا قائم کردہ غزہ امن بورڈ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔

اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بحث و مباحثہ جاری ہے جو بہت حد تک دو انتہاؤں کو چھورہا ہے اور بہت کم حقائق پر بات ہو رہی ہے۔گل پلازے میں لگنے والی آگ اس حوالے سے گہرے تجزیے کی طرف بلاتی ہے کہ یہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کا تسلسل ہے۔جب کوئی آگ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتی ہے تو کچھ عرصے کے لیے ہر کوئی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے آیندہ ایسا نہ ہو لیکن پھر بھول کر اپنی اپنی روٹین کے کاموں میں الجھ جاتے ہیں۔ایسا دکھائی دینے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

 ہمارے ہاں چونکہ بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے ایک کے بعد دوسرا حادثہ ہو رہا ہے ورنہ اچھے فلاحی معاشروں میں ایسا ہو جائے تو قیامت بپا ہو جاتی ہے اور آیندہ سدِ باب کے لیے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں۔مقامی انتظامیہ اور کاروباری حضرات اس کی ذمے داری سے بچ نہیں سکتے۔ایک ایسی عمارت جس کے ستونوں میں دراڑیں پڑ چکی ہوں،جو بوسیدگی کی منہ بولتی تصویر ہو وہاں 500دکانوں کی گنجائش والی جگہ پر 1200دکانوں کا بننا صرف غیر قانونی ہی نہیں مجرمانہ غفلت کا غماز ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے گیارہ ماہ میں کراچی میں آگ لگنے کے 88واقعات ہو چکے ہیں۔جس دن گل پلازہ میں آگ لگی اس سے صرف دو دن بعد صدر کراچی کے ایک رہائشی پلازے میں ساتویں فلور پر آگ بھڑک اٹھی۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ آگ محدود اور چھوٹی تھی،ادارے چوکس تھے اس لیے اس آگ پر جلدی قابو پا لیا گیا۔لاہور کے ایک ہوٹل میں بھی اسی دوران آگ لگی۔اس حادثے میں تین قیمتی جانیں گئیں۔ ہماری تقریباً تمام عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات ہوتے ہی نہیں اور عام طور پر ان کے استعمال کی جانکاری بھی نہیں ہوتی۔

 سانحہ گل پلازہ ایک قومی المیے میں بدل چکا ہے۔صفائی کا عمل ابھی تک جاری ہے۔جھلسی ہوئی انسانی باقیات ابھی تک مل رہی ہیں۔پورے پورے گھر اجڑ گئے ہیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ سندھ اور کراچی کی سیاسی قیادت ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی ہے اور پوائنٹ اسکورنگ ہو رہی ہے۔یہ پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی کچھ مختلف نہیں ہو رہا۔اسی لیے ڈر ہے کہ کچھ پازیٹو نہیں ہونے جا رہا۔شہرِ کراچی تین سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔کراچی کی کئی یونین کونسلیں جماعتِ اسلامی کے پاس ہیں لیکن وہاں بھی کوئی بہتر حالات نہیں ہیں۔ کراچی کے میئر حادثے کے 23گھنٹے بعد وہاں آئے۔ ایم کیو ایم بہت واویلا کر رہی ہے لیکن کراچی کے مسائل میں اس کا بھی حصہ ہے ۔

یہ جماعت ایک لمبے عرصے تک کراچی اور حیدرآباد کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے۔ مشرف کے دور میں تو اس جماعت کو بہت عروج حاصل تھا۔اگریہ کہا جائے کہ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں اس کا زیادہ حصہ ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ پی پی پی پچھلے اٹھارہ سال سے مسلسل سندھ کے اقتدار کو انجوائے کر رہی ہے لیکن کراچی بدقسمتی کی علامت بنا ہوا ہے۔یہ شہر گندگی کے ڈھیروں سے اٹا پڑا ہے۔

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں عمارتوں میں آگیں لگ رہی ہیں،ٹینکر مافیا کا راج ہے لیکن ہر کوئی اس کا مالک تو بننا چاہتا ہے کوئی خیر کا کام نہیں کرتا۔جناب بلاول زرداری نوجوان رہنما ہیں لیکن تنقید پر جزبز ہونا شروع کر دیتے ہیں۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ سندھ گورنمنٹ کی کارکردگی اچھی نہیں ۔ یہ جمہوری رویہ نہیں۔انھوں نے اسلام آباد میں اڑھائی گھنٹے لگا کر سندھ حکومت کے گیت گائے لیکن اگلے ہی دن گل پلازہ کا افسوس ناک حادثہ ہو گیا ۔دعا کی جا سکتی ہے کہ کراچی کی سختی ختم ہو اور یہ شہر ایک بار پھر عروس البلاد بنے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹھہرے پانی میں مسلسل پتھر مار کر ہیجان پیدا کررہے ہیں۔اقوامِ متحدہ پہلے ہی بہت کمزور ہے، ایسے میں امریکی صدر کا اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں اپنی سربراہی میں ایک نیا فورم بنانا عالمی انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس وقت چین اور روس کے علاوہ دنیا کا کوئی اور ملک ٹرمپ کو ناراض نہیں کر سکتا۔وینزویلا کے صدر کا حال سبق آموز ہے۔پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کر لی ہے۔وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ شمولیت فلسطینی کاز کو تقویت دے گی۔یہ تو ظاہری Rationaleہے لیکن دراصل پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ ٹرمپ کو انکار کر سکے۔

فرانس کے صدر میکرون نے امن بورڈ میں شمولیت نہ کرنے کا عندیہ دیا تو ٹرمپ نے فرانس پر 200فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہوتی یہی فیصلہ کرتی۔صدر ٹرمپ بیمار لگتے ہیں،وہ جلد Disfunctioalہو سکتے ہیں۔امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ٹرمپ کے لیے بھیانک ہوسکتے ہیں۔ ان کا وقت بہت دیکھ بھال کر گزارنا ہو گا۔پاکستان کی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ایک بڑا جھٹکا اسے بے پناہ مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک امریکی بی ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف بھی امریکی دانت ہے۔پاکستان کے پاس یہ آپشن ہی نہیں تھی کہ وہ شمولیت کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرتا۔موجودہ صورتحال میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ فلسطینیوں کے لیے اگر کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ ٹرمپ کی رائٹ سائڈ پر رہ کر ہی حاصل ہو گا۔ اور تو فی الحال کچھ ممکن نظر نہیں آتا البتہ ٹرمپ کے پلان سے فلسطینیوں کا قتلِ عام ضرور رک جائے گا اور یہ بہت حوصلہ افزا بات ہو گی۔پاکستان جہاں اور جس صورت میں ہو گا،فلسطینی کاز کو مدد ہی ملے گی۔

صدر ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ سمیت آٹھ اسلامی ممالک ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان مضبوط افواج رکھنے کی وجہ سے مل کر ایک موئثر قوت اور آواز بنتے ہیں۔غزہ میں جو ہونے جا رہا ہے اس سے ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کو بڑھاوا ملے گا۔دوسراا غزہ تو ایک بہانہ ہے ،اصل مقصد اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں ایک متبادل ادارے کا ممکنہ قیام لگتاہے۔اس ابتدائی عمل میں پاکستان کی شمولیت اچھے نتائج لا سکتی ہے۔امید کرنی چاہیے کہ ہماری شمولیت پاکستان اور فلسطین دونوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگی۔مجھے داخلی سیاسی و معاشی محاذ،بین الاقوامی سفارتی محاذ سے بہت مشکل نظر آتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گل پلازہ نہیں ہو ٹرمپ کے ہے لیکن نہیں ا رہی ہے ہے اور کے لیے کوئی ا

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل