Express News:
2026-06-02@23:45:07 GMT

گل پلازہ آگ ، غزہ امن بورڈ میں شمولیت

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

پچھلے دنوں بہت سے اہم واقعات رونماء ہوئے لیکن ان میں سے دو واقعات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جن کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کراچی میں گُل پلازہ میں لگنے والی آگ بہت افسوس ناک تھی۔بیسیوں گھر اجڑ گئے اور سیکڑوں کاروبار تباہ ہو گئے۔بین الاقوامی میدان میں ٹرمپ کا قائم کردہ غزہ امن بورڈ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔

اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بحث و مباحثہ جاری ہے جو بہت حد تک دو انتہاؤں کو چھورہا ہے اور بہت کم حقائق پر بات ہو رہی ہے۔گل پلازے میں لگنے والی آگ اس حوالے سے گہرے تجزیے کی طرف بلاتی ہے کہ یہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کا تسلسل ہے۔جب کوئی آگ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتی ہے تو کچھ عرصے کے لیے ہر کوئی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے آیندہ ایسا نہ ہو لیکن پھر بھول کر اپنی اپنی روٹین کے کاموں میں الجھ جاتے ہیں۔ایسا دکھائی دینے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

 ہمارے ہاں چونکہ بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے ایک کے بعد دوسرا حادثہ ہو رہا ہے ورنہ اچھے فلاحی معاشروں میں ایسا ہو جائے تو قیامت بپا ہو جاتی ہے اور آیندہ سدِ باب کے لیے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں۔مقامی انتظامیہ اور کاروباری حضرات اس کی ذمے داری سے بچ نہیں سکتے۔ایک ایسی عمارت جس کے ستونوں میں دراڑیں پڑ چکی ہوں،جو بوسیدگی کی منہ بولتی تصویر ہو وہاں 500دکانوں کی گنجائش والی جگہ پر 1200دکانوں کا بننا صرف غیر قانونی ہی نہیں مجرمانہ غفلت کا غماز ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے گیارہ ماہ میں کراچی میں آگ لگنے کے 88واقعات ہو چکے ہیں۔جس دن گل پلازہ میں آگ لگی اس سے صرف دو دن بعد صدر کراچی کے ایک رہائشی پلازے میں ساتویں فلور پر آگ بھڑک اٹھی۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ آگ محدود اور چھوٹی تھی،ادارے چوکس تھے اس لیے اس آگ پر جلدی قابو پا لیا گیا۔لاہور کے ایک ہوٹل میں بھی اسی دوران آگ لگی۔اس حادثے میں تین قیمتی جانیں گئیں۔ ہماری تقریباً تمام عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات ہوتے ہی نہیں اور عام طور پر ان کے استعمال کی جانکاری بھی نہیں ہوتی۔

 سانحہ گل پلازہ ایک قومی المیے میں بدل چکا ہے۔صفائی کا عمل ابھی تک جاری ہے۔جھلسی ہوئی انسانی باقیات ابھی تک مل رہی ہیں۔پورے پورے گھر اجڑ گئے ہیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ سندھ اور کراچی کی سیاسی قیادت ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی ہے اور پوائنٹ اسکورنگ ہو رہی ہے۔یہ پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی کچھ مختلف نہیں ہو رہا۔اسی لیے ڈر ہے کہ کچھ پازیٹو نہیں ہونے جا رہا۔شہرِ کراچی تین سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔کراچی کی کئی یونین کونسلیں جماعتِ اسلامی کے پاس ہیں لیکن وہاں بھی کوئی بہتر حالات نہیں ہیں۔ کراچی کے میئر حادثے کے 23گھنٹے بعد وہاں آئے۔ ایم کیو ایم بہت واویلا کر رہی ہے لیکن کراچی کے مسائل میں اس کا بھی حصہ ہے ۔

یہ جماعت ایک لمبے عرصے تک کراچی اور حیدرآباد کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے۔ مشرف کے دور میں تو اس جماعت کو بہت عروج حاصل تھا۔اگریہ کہا جائے کہ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں اس کا زیادہ حصہ ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ پی پی پی پچھلے اٹھارہ سال سے مسلسل سندھ کے اقتدار کو انجوائے کر رہی ہے لیکن کراچی بدقسمتی کی علامت بنا ہوا ہے۔یہ شہر گندگی کے ڈھیروں سے اٹا پڑا ہے۔

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں عمارتوں میں آگیں لگ رہی ہیں،ٹینکر مافیا کا راج ہے لیکن ہر کوئی اس کا مالک تو بننا چاہتا ہے کوئی خیر کا کام نہیں کرتا۔جناب بلاول زرداری نوجوان رہنما ہیں لیکن تنقید پر جزبز ہونا شروع کر دیتے ہیں۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ سندھ گورنمنٹ کی کارکردگی اچھی نہیں ۔ یہ جمہوری رویہ نہیں۔انھوں نے اسلام آباد میں اڑھائی گھنٹے لگا کر سندھ حکومت کے گیت گائے لیکن اگلے ہی دن گل پلازہ کا افسوس ناک حادثہ ہو گیا ۔دعا کی جا سکتی ہے کہ کراچی کی سختی ختم ہو اور یہ شہر ایک بار پھر عروس البلاد بنے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹھہرے پانی میں مسلسل پتھر مار کر ہیجان پیدا کررہے ہیں۔اقوامِ متحدہ پہلے ہی بہت کمزور ہے، ایسے میں امریکی صدر کا اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں اپنی سربراہی میں ایک نیا فورم بنانا عالمی انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس وقت چین اور روس کے علاوہ دنیا کا کوئی اور ملک ٹرمپ کو ناراض نہیں کر سکتا۔وینزویلا کے صدر کا حال سبق آموز ہے۔پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کر لی ہے۔وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ شمولیت فلسطینی کاز کو تقویت دے گی۔یہ تو ظاہری Rationaleہے لیکن دراصل پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ ٹرمپ کو انکار کر سکے۔

فرانس کے صدر میکرون نے امن بورڈ میں شمولیت نہ کرنے کا عندیہ دیا تو ٹرمپ نے فرانس پر 200فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہوتی یہی فیصلہ کرتی۔صدر ٹرمپ بیمار لگتے ہیں،وہ جلد Disfunctioalہو سکتے ہیں۔امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ٹرمپ کے لیے بھیانک ہوسکتے ہیں۔ ان کا وقت بہت دیکھ بھال کر گزارنا ہو گا۔پاکستان کی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ایک بڑا جھٹکا اسے بے پناہ مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک امریکی بی ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف بھی امریکی دانت ہے۔پاکستان کے پاس یہ آپشن ہی نہیں تھی کہ وہ شمولیت کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرتا۔موجودہ صورتحال میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ فلسطینیوں کے لیے اگر کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ ٹرمپ کی رائٹ سائڈ پر رہ کر ہی حاصل ہو گا۔ اور تو فی الحال کچھ ممکن نظر نہیں آتا البتہ ٹرمپ کے پلان سے فلسطینیوں کا قتلِ عام ضرور رک جائے گا اور یہ بہت حوصلہ افزا بات ہو گی۔پاکستان جہاں اور جس صورت میں ہو گا،فلسطینی کاز کو مدد ہی ملے گی۔

صدر ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ سمیت آٹھ اسلامی ممالک ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان مضبوط افواج رکھنے کی وجہ سے مل کر ایک موئثر قوت اور آواز بنتے ہیں۔غزہ میں جو ہونے جا رہا ہے اس سے ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کو بڑھاوا ملے گا۔دوسراا غزہ تو ایک بہانہ ہے ،اصل مقصد اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں ایک متبادل ادارے کا ممکنہ قیام لگتاہے۔اس ابتدائی عمل میں پاکستان کی شمولیت اچھے نتائج لا سکتی ہے۔امید کرنی چاہیے کہ ہماری شمولیت پاکستان اور فلسطین دونوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگی۔مجھے داخلی سیاسی و معاشی محاذ،بین الاقوامی سفارتی محاذ سے بہت مشکل نظر آتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گل پلازہ نہیں ہو ٹرمپ کے ہے لیکن نہیں ا رہی ہے ہے اور کے لیے کوئی ا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے