ایران کے معاملے پر پینٹاگون صدر ٹرمپ کی توقعات کے مطابق عمل کرےگا: امریکی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی جانب بڑھنے سے سختی سے خبردار کرتے ہوئےکہا کہ امریکا تمام آپشنز استعمال کرنےکے لیے تیار ہے۔امریکی وزیر دفاع نےکہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کا موقع تھا، ایران کو اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ محکمہ دفاع ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی توقعات کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار ہے اور صدر ٹرمپ جو چاہیں گے پینٹاگون وہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔یاد رہےکہ امریکا نے بحری بیڑہ مشرقی وسطیٰ میں تعینات کردیا ہے ۔ ایک روز قبل امریکی صدر نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئےکہا تھا کہ ایک بحری بیڑہ تیزی سے بھرپور طاقت اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی فورسز کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور ایرانی فورسز کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔