تحریک انصاف قیادت کی سپریم کورٹ آمد، سیکیورٹی ہائی الرٹ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد ( ملک نجیب ) اسلام آباد میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی متوقع آمد کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اضافی نفری تعینات کی گئی اور قیدی وینز بھی عدالت کے سامنے پہنچا دی گئیں۔
پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز چترالی سب سے پہلے سپریم کورٹ پہنچی اور بتایا کہ پارٹی کی دیگر قیادت بھی راستے میں ہے۔ اس دوران سینئر رہنما لطیف کھوسہ اور سینیٹر مرزا آفریدی بھی عدالت پہنچ گئے۔ ڈی آئی جی جواد طارق اور ڈی آئی جی آپریشنز علی رضا نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کی آمد کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور اضافی قیدی وینز بھی تعینات کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے تقریباً دس منٹ ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے اٹارنی جنرل سے بھی ملاقات کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی سپریم کورٹ کے باہر موجود تھے اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کی آنکھ کے آپریشن کے بارے میں پارٹی قیادت کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال منتقل کرنے کے وقت اور دیگر تفصیلات بھی واضح نہیں کی گئیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ان کے پاس دیگر آئینی اور قانونی اختیارات موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر آئینی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے آئے ہیں تاکہ معاملے کو قانونی دائرے میں حل کیا جا سکے۔
سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ کے اطراف پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ رہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز