سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی امریکا کے معروف تھنک ٹینک ممبران سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
واشنگٹن:
واشنگٹن: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکا کے معروف تھنک ٹینک کے ممبران سے ملاقات کی، جس میں امریکا کے فکری حلقوں کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔
ملاقات کے دوران پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کے علاوہ عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ سفیر پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر امریکی فکری برادری کے سامنے پیش کیا۔
اس موقع پر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ 2025 پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے اہم تبدیلیوں کا سال تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین بہتر تعلقات کی نوعیت محض اختیاری یا وقتی نہیں بلکہ ان تعلقات کی پائیداری مستقبل کی ایک اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے ۔ دونوں ملکوں کی شراکت داری نہ صرف باہمی مفادات کے حصول بلکہ عالمی امن کے حوالے سے بھی نتیجہ خیز رہی ہے۔
سفیر پاکستان نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت رجحانات کا سہرا دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے سر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان منافع بخش معاشی روابط کے قیام کے ضمن میں بھرپور اور طویل مدتی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ معدنیات، توانائی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبہ جات میں تعاون کے فروغ کے عزم نے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت عطا کی ہے۔
رضوان سعید شیخ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی 65 فیصد سے زائد نوجوان آبادی امریکا اور دنیا بھر میں انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے سلسلے میں کلیدی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم لاگت اور بہتر معیار کے حوالے سے پاکستان خطے کے دوسرے ممالک پر مسابقتی برتری کا حامل ہے، جس سے امریکی سرمایہ کاروں اور پیداواری شعبے کو بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
ملاقات کے دوران سفیر پاکستان نے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے اثرات اور پاکستان کی جانب سے تعمیری و مثبت کردار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں کی قیمت پاکستانی عوام نے اپنے خون سے ادا کی ہے، تاہم پاکستانی قیادت اور عوام دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ اپنے عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی کوشش اور قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا سفارتی حل پاکستان کی ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے۔
رضوان سعید شیخ نے مئی 2025 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے ایک بار پھر دنیا پر ثابت کیا کہ سالمیت اور قومی وقار کے حوالے سے پاکستان کو کسی طور مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارتی جارحیت نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ کشمیری عوام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل نہ صرف علاقائی اور عالمی امن بلکہ خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
سفیر پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کو کھلی لاقانونیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی غیر قانونی اور خطرناک روش کا نوٹس لیا جائے۔
ملاقات کے اختتام پر امریکی اہلِ فکر کی جانب سے پاکستان کی خارجہ حکمت عملی، عالمی سیاست ، امن کے ضمن میں مثبت کردار، پختہ اور کامیاب سفارت کاری کی تعریف کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ نے سفیر پاکستان نے انہوں نے کہا کہ کے حوالے سے پاکستان کی سے پاکستان امریکا کے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں