پاکستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ شرکت پر غیر یقینی، آئس لینڈ نے بھی معذرت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان کی آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے دوران آئس لینڈ کرکٹ نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گرین شرٹس کی جگہ لینے کے لیے دستیاب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اگر ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کیا کرسکتی ہے؟ اختیارات کا تفصیلی جائزہ
پاکستان کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے ہفتے تک ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت یا ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ صورتحال بنگلہ دیش کی جانب سے ٹورنامنٹ سے دستبرداری کے بعد پیدا ہوئی، جس کے باعث پاکستان نے بھی اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسی غیر یقینی ماحول میں آئس لینڈ کرکٹ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ قلیل وقت کے باعث ان کے لیے کسی عالمی ایونٹ کی تیاری ممکن نہیں، اس لیے وہ پاکستان کی جگہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
https://x.
آئس لینڈ کرکٹ کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم مکمل طور پر شوقیہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور کھلاڑی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں چھوڑ کر فوری طور پر دنیا کے دوسرے حصے میں سفر نہیں کر سکتے۔
آئس لینڈ کرکٹ کے مطابق ان کے کپتان پیشے کے اعتبار سے بیکر ہیں، ایک کھلاڑی بحری جہاز کا کپتان ہے جبکہ دیگر بینکاری سے وابستہ ہیں، ایسے میں فوری طور پر ٹورنامنٹ کھیلنا ممکن نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ شوقیہ کرکٹ کی زمینی حقیقت ہے۔
آئس لینڈ کرکٹ نے عالمی کرکٹ کے فیصلوں پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر تیاری اور سہولیات کے کسی بڑے ایونٹ میں شرکت نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ اگر پاکستان نے دستبرداری اختیار کی تو شاید یوگنڈا کو موقع مل جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو شامل کرنے کا فیصلہ
آئس لینڈ کرکٹ نے اپنے روایتی طنزیہ انداز میں امریکا اور یورپ کی کرکٹ سیاست پر بھی چوٹ کی اور کہا کہ ان کی عدم شرکت پر شائقین مایوس ہوں گے، تاہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ آئس لینڈ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا رکن نہیں، تاہم سوشل میڈیا پر اس کے طنزیہ بیانات عالمی کرکٹ حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی آئیس لینڈ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئیس لینڈ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ آئس لینڈ کرکٹ نے پاکستان کی ورلڈ کپ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔