پاکستان نے پہلے ٹی 20 میں آسٹریلیا کو 22رنز سے شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان نے آسٹریلیا کو ٹی ٹوئنٹی میں 22 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کی۔
3 میچز کی سیریز کےقذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلےبیٹنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے۔ صائم ایوب 40 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے۔ جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز بناسکی۔
آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا نہ تھا، میچ کی پہلی ہی گیند پر صاحبزادہ فرحان صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ایک وکٹ گرنے کے بعد صائم ایوب اور کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ درانہ بیٹنگ کی اور دلکش شاٹس کھیلے۔تاہم 74 کے مجموعی اسکور پر صائم ایوب 40 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔اس کے بعد سلمان علی آغا 39، بابر اعظم 24، فخر زمان 10، عثمان خان 18، شاداب ایک اور شاہین صفر پر آؤٹ ہوئے۔محمد نواز 15 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔یوں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز اسکور کیے۔
آسٹریلیا کے ایڈم زمپا نے 24 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ بارلیٹ اور بیئرڈمین نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان کے 169 رنز کے ہدف کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم زیادہ کھل کر نہیں کھیل سکی اور 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز بناسکی۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 36 اور بارلیٹ نے 34 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے صائم ایوب اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ شاداب خان اور محمد نواز نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ گرین شرٹس کو 3 میچز کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اوورز میں 8 وکٹوں پاکستان نے ا سٹریلیا صائم ایوب رنز کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔