پاکستان کسی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، ایران پر طاقت و پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان کا ابراہیمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران پر طاقت اور پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس اور سٹبلائیزشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 3 فیصلوں کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کردیں
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔
بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زیادہ ہے، بھارت کے یورپ کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔
پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اجلاس میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات وسیع کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اسی دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔
10 ارب روپے کا منافع کمایا ،ریلوے کو وسطِ ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنے جا رہے ہیں: حنیف عباسی
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ تھے، ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سانحہ گل پلازہ، جاں بحق ہونیوالے مزید 12 افراد کی باقیات کی شناخت کرلی گئی
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے لیے جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اچھے ہیں، امریکا نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
عمران خان کو خفیہ طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، عطا تارڑ کے اعتراف نے وفاقی حکومت کا جھوٹ بے نقاب کر دیا، شفیع جان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خارجہ کے ترجمان سرمایہ کاری کے حوالے سے کہ پاکستان دفتر خارجہ کے درمیان کے مطابق بات چیت یورپ کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔