بھارتی فلم دھرندھر نیٹ فلکس پر ریلیز، اصلی فلم کہاں گئی؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
رنویر سنگھ کی ایکشن سے بھرپور بالی ووڈ فلم دھُرندھر اب نیٹ فلکس پر دستیاب ہے تاہم جشن کی بجائے فلم کی اسٹریمنگ ریلیز پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ فلم کے کچھ سینز میں ترمیم کی گئی ہے اور ڈائیلاگز کاٹ دیے گئے ہیں۔
ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے یہ دعویٰ کیا کہ تقریباً دس منٹ کی فوٹیج تراش دی گئی ہے اور کچھ ڈائیلاگز کو ایڈیٹ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں مداحوں نے اس اقدام پر اعتراض کیا کیونکہ OTT پلیٹ فارمز بالغ ناظرین کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں اور عام طور پر بغیر سنسر مواد پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھُرندھر میں بڑی تبدیلیاں کردی گئیں، یہ سب کس کے دباؤ میں ہوا؟
فینز نے فوراً اس تضاد کی نشاندہی کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ فلم کو ‘A’ سرٹیفائیڈ کیا اور پھر بھی الفاظ کو خاموش کر دیا؟ کیا ہم پانچ سال کے بچے ہیں؟ اس ایپ پر ہر ناظر 18 سال سے بڑا ہے۔ فلم کے اصل ماحول کو کٹوتی اور سنسر کرنے سے خراب کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔
ایک اور ناظر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں واقعی امید کر رہا تھا کہ یہ بغیر کٹوتی کے ورژن آئے گا لیکن انہوں نے دھوکہ دہی والے الفاظ کو تھیٹر ورژن کی طرح خاموش کر دیا۔ ایک تیسرے صارف نے بس یہ سوال پوچھا کہ یہ الفاظ سنسر کیوں کیے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود بھارتی فلم ’دھرندر‘ کی کامیابی، ایجنڈا کیا ہے؟
اب تک نیٹ فلِکس نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا کہ ترمیم کی وجہ کیا ہے یا سنسر شدہ مواد کیوں دکھایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دھرندر دھرندر نیٹ فلکس رنویر سنگھ نیٹ فلکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ دھرندر نیٹ فلکس رنویر سنگھ نیٹ فلکس نیٹ فلکس
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔