کیا نیپا وائرس عالمی وبا بن سکتا ہے؟ عالمی ادارۂ صحت کا مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ بھارت سے نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے اور اس مرحلے پر سفر یا تجارتی پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق بھارت میں وائرس کے دو کیسز سامنے آئے ہیں، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ ان سے مزید انفیکشن پھیلنے کا امکان کم ہے اور تاحال انسان سے انسان میں وائرس کے تیز پھیلاؤ کے شواہد نہیں ملے۔
عالمی ادارۂ صحت نے بتایا کہ بھارت میں ایسے وبائی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس حوالے سے بھارتی صحت حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ادارے نے یہ بھی کہا کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ وائرس بھارت اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں چمگادڑوں کی آبادی میں پایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیںبھارتی حکومت کی نااہلی سے مہلک ’نیپا وائرس‘ خطہ میں پھیلنے کا خدشہ
نیپا وائرس عام طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں اور بعض جانوروں جیسے سور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ وائرس بخار اور دماغی سوزش کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ اس وقت اس بیماری کا کوئی باقاعدہ علاج موجود نہیں، اگرچہ ویکسینز پر تحقیق جاری ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق نیپا وائرس انسان سے انسان میں آسانی سے منتقل نہیں ہوتا اور عام طور پر طویل اور قریبی رابطے کی صورت میں پھیلتا ہے، اس لیے عام آبادی کے لیے مجموعی خطرہ کم ہے۔
حالیہ کیسز بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں سامنے آئے، جہاں دو ہیلتھ ورکرز دسمبر کے آخر میں متاثر ہوئے تھے اور اس وقت زیر علاج ہیں۔ بھارت میں نیپا وائرس کے چھوٹے پیمانے پر پھیلاؤ کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر ریاست کیرالہ میں، جہاں 2018 سے اب تک متعدد اموات ہو چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائرس کے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔