معصوم جانوں کا ضیاع حادثہ نہیں سنگین جرم ہے، واقعے نے سر شرم سے جھکا دیا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی مجموعی نااہلی اورغفلت کا نتیجہ ہے، انہوں نے سخت کہا کہ اگریہ ان کی یا کسی بھی اہلِ خانہ کی بیٹی ہوتی تو پورا نظام ہل جاتا اوراس واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ کسی بھی منصوبے میں عوام کی جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے اور تمام تعمیراتی سائٹس پر حفاظتی اقدامات لازمی یقینی بنائے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں نالے میں ماں اور بیٹی کے گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ حکام کو بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حادثے کے وقت رکشہ میں سوار ماں اور بیٹی اندھیرے کی وجہ سے کھلے مین ہول میں گر گئیں متاثرہ خاندان لاہور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر پر رہائش پذیر تھا۔ حادثے کے فوری بعد ریسکیو حکام نے کارروائی شروع کی اور متاثرہ افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، جن میں ماں کی لاش کل اور بیٹی کی لاش آج ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو واقعے کی جگہ پر جاری تعمیراتی کام، کھلے مین ہولز اور حفاظتی اقدامات میں غفلت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سائٹ پر سپروائزر، کنسلٹنٹ اور انجینئر سمیت تمام موجودہ افراد واقعہ کے ذمہ دار ہیں اور اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں یا جائے وقوعہ پر حفاظتی کپڑا یا ڈھکن لگایا جاتا تو حادثہ روکا جا سکتا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع حادثہ نہیں سنگین جرم ہے، واقعے نے سر شرم سے جھکا دیا، کھلے مین ہول کی سکیورٹی میں ناکامی نااہلی چھپانے کی کوشش ہے، نااہل افسران کو عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افسران کو سزا دی جائے گی، حقائق دبانے کی کوشش سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے، متاثرہ خاندان کو انصاف کے بجائے ہراساں کیا گیا، پنجاب میں ہر جان قیمتی ہے، افسر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو انصاف تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے پنجاب میں ترقیاتی منصوبے عوام کو فائدہ دینے کیلئے ہوتے ہیں، جان لینے کیلئے نہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تعمیراتی سائٹ پر ناقص انتظامات، لائٹ کا نہ ہونا اور پارکنگ کے لیے دیئے گئے ٹوکن جیسے اقدامات کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، ایم ڈی واسا اور ڈی جی ایل ڈی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ذمہ دار قرار دیا اور سوال کیا کہ حادثے کا فوری دورہ کیوں نہیں کیا گیا اور متاثرہ افراد کے بجائے خاتون کے شوہر کو تھانے کیوں لے جایا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حکم دیا کہ پروجیکٹ منیجر، ڈائریکٹر اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کیا جائے اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا اور دیگر ذمہ داران کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔ متاثرہ خاندان کے حق میں مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور متاثرہ فیملی کو ایک کروڑ روپے کے ہرجانے کی رقم فراہم کی جائے، جو ٹھیکیدار سے وصول کی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی مجموعی نااہلی اورغفلت کا نتیجہ ہے، انہوں نے سخت کہا کہ اگریہ ان کی یا کسی بھی اہلِ خانہ کی بیٹی ہوتی تو پورا نظام ہل جاتا اوراس واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ کسی بھی منصوبے میں عوام کی جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے اور تمام تعمیراتی سائٹس پر حفاظتی اقدامات لازمی یقینی بنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے تحت واقعہ کے تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور متاثرہ خاندان کی مالی، قانونی اور اخلاقی حمایت کو یقینی بنایا جائے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا حادثہ ناقابل قبول ہے اور اس کے ذمہ داران کو کسی رعایت کے بغیر سخت سزا دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متاثرہ خاندان اور متاثرہ مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے جائے اور کسی بھی
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔