اپوزیشن جماعتیں غزہ فوج بھیجنے کے حکومتی فیصلے کی کھل کر مخالفت کریں‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے غزہ فوج بھیجنے کے فیصلے کی کھل کر مخالفت کریں، ٹرمپ سے امیدیں وابستہ اور اس کی تابعداری طاغوت کی پرستش کے مترادف ہے، وزیراعظم نے دنیا کا امن تباہ کرنے والے امریکی صدر کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرکے قوم کے وقار کو مجروح کیا۔منصورہ میں جمعرات کو مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اضلاع میں ریڈزون کے قیام کے بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک اور غیر جمہوری تماشا قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ فارم 47 کی پیداوار اور زبردستی مسلط ہونے والے حکمران ہوتے کون ہیں کہ عوام سے حق احتجاج چھینیں؟ انہوں نے کہا کہ بل میں ڈپٹی کمشنرز کے زیرنگرانی انٹیلی جنس کمیٹی کو احتجاج کی اجازت کا فیصلہ دینے کے اختیارات کی تجویز دی گئی ہے، کیا عوام کے منتخب نمائندے ڈپٹی کمشنر سے احتجاج کی اجازت طلب کریں گے؟ انگریز کی تیار کردہ افسرشاہی کا نظام7 دہائیوں سے ملک پر مسلط ہے، سیاسی پارٹیوں میں خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے، ملک میں گورننس کا بدترین نظام ہے، جماعت اسلامی پرامن عوامی مزاحمت سے نظام بدلنے کی جدوجہد کررہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر چترال لوئر وجیہ الدین ، امیر چترال اپر اسد الرحمن ، امیر مری غلام احمد عباسی ، سیکرٹری جنرل ایبٹ آباد ہمایوں خان اور ناظم تربیت گاہ حافظ سیف الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بڑے شہروں میں بااختیار بلدیاتی نظام ہی مسائل کا حل ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا نیا شوشہ چھوڑا ہے، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سے کراچی کے عوام شدید بیزار ہیں، یہ دونوں پارٹیاں عوام کے ووٹ سے کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گی، مقتدرہ نے ان کو زبردستی مسلط کیا۔ 17 سال سے سندھ پر قابض پیپلز پارٹی اتنی نالائق ہے کہ کراچی کو آگ بجھانے والا سسٹم تک نہیں دے سکی۔ ایک خاندان اور چند وڈیرے پی پی کو چلا رہے ہیں، تباہی مچانے کے باوجود بلاول کو ونڈر بوائے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، ن لیگ کو بھی ایک خاندان چلا رہا ہے، سیاسی پارٹیوں میں ایک نسل کے بعد دوسری کو حکمرانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے پنجاب میں عوام دشمن بلدیاتی نظام لے آئے۔ پنجاب کا موازنہ سندھ سے کیا جارہا ہے جو پہلے ہی کھنڈر بن چکا ہے۔ پنجاب کا موازنہ اس کو دستیاب فنڈز سے ہوگا، صوبے میں گزشتہ 15 برس کے فنڈر کا حساب دیا جائے۔ ناموں سے پُل بنانا اور ٹھیلے لگانا ترقی کی علامت نہیں ، عوام کا خون نچوڑ کر ٹیکس اکٹھا کرنے والے حکمران ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں، آئی پی پیز کو ایک سال میں 22 سو ارب دے دیے گئے، آئی پی پی مافیا ہر پارٹی میں موجود تھا، پنجاب میں کسان سے گندم 2 ہزارروپے من میں خریدی گئی اب آٹا 6 ہزارروپے من فروخت ہورہا ہے، وزیراعلیٰ بتائیں 12 کروڑ عوام کا استحصال کیوں ہورہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کا حکمران طبقہ ایک ہی طرح کا ہے اور لوٹ مار میں شراکت دار ہے۔ انہوں نے مقتدرہ سے سوال کیا کہ لوٹ مار کرنے والوں کو عوام پر کیوں مسلط کیا جاتا ہے؟ ۔امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پنجاب میں غیر جمہوری بلدیاتی نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، کراچی میں عوام کا مینڈیٹ واپس لیں گے، شہر قائد میں یکم فروری کو ملین مارچ ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وادی تیراہ میں برف باری کے باوجود گھروں کو خالی کرانے کا معاہدہ کیوں کیا گیا؟ وفاقی و صوبائی حکومت معاہدے میں شامل تھی، اب وادی کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن اپنے تئیں لوگوں کی بھرپور مدد کررہی ہے، فیصلہ کرنے والے ایسے اقدام اٹھانے سے قبل عوام کی مشکلات کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟ باربار کہہ رہے ہیں فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوں گے، پاکستان کے حکمران عوام کے اعتماد کے بغیر فیصلے کریں گے تو مسائل میں مزید اضافہ ہوگا، افغانستان سے بات کی جائے، افغان سرزمین بھی کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکی جنگ میں شمولیت کے نتائج قوم 25 سال سے بھگت رہی ہے ، مشرف کے فیصلوں کو آنے والوں نے پچھلوں پر ڈال دیا ، موجودہ مسلط حکمران چلے جائیں گے تو قوم مزید نتائج بھگتے گی اور ملبہ جانے والوں پر ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کو غزہ فوج بھیجنے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ، جے یو آئی کا اس حوالے سے موقف بھی قابل ستائش ہے، باقی سیاسی پارٹیاں بھی کھل کر سامنے آئیں۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں منظم طریقے سے منشیات کا دھندہ چل رہا ہے، غریب نوجوانوں کی تعلیم تک دسترس نہیں، ملک میں 44 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے ہے، حکمران طبقہ عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے ،اس نظام کو بدلنا ہوگا، جماعت اسلامی مفاد پرست مسلط ٹولے کو ہٹانے،دین کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے، دین کو سیاست سے الگ کرکے دیکھنا تصور دین کو سمجھنے میں غلطی ہے، نظام بدلنے کی جدوجہد کے خواہاں ہر فرد کے لیے جماعت اسلامی کے دروازے کھلے ہیں۔ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں 50 ہزار عوامی کمیٹیاں اور 50 لاکھ ممبرز بنانے کا ہدف مکمل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے نے کہا کہ انہوں نے نے والے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔