سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات و نشریات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے تابش ہاشمی کے سانحہ گل پلازہ سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے سندھ کے عوام کی توہین قرار دے دیا۔

پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ تابش ہاشمی نے جو ریمارکس دیے ایسے بیانات سندھ کے عوام کی توہین اور آئینی و انتظامی امور سے لاعلمی کا واضح ثبوت ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ’میزبان تابش ہاشمی نے حساس معاملے پر بغیر معلومات کے تبصرہ کیا جس کی وجہ سے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ آئینی صوبہ ہے اور صوبائی حکومت جمہوری ڈھانچے و قوانین کے تحت چلتی ہے۔

مزید پڑھیں

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ؛ ملکی تاریخ میں پہلی بار جاں بحق 12افراد کی باقیات کی شناخت جدید طریقے سے کرلی گئی

سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط

شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرز حکمرانی کو مذاق یا غیر سنجیدہ گفتگو کا موضوع نہیں بنایا جاسکتا، میڈیا پر بیٹھ کر سندھ یا کراچی کو پرائیوٹائز کرنے جیسے بیانات دینا غیر سنجیدگی اور عوام کے جذبات کومجروح کرنے کے مترادف ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ’کراچی پورے سندھ کا دل ہے اور شہر کے مسائل کا حل سنجیدہ پالیسی، وسائل و اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے، انہیں ٹی وی شوز پر ہونے والے نچلی سطح کے تبصروں سے حل نہیں کیا جاسکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے اور عوامی مسائل پر تفریح کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ آواز اٹھائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ تابش ہاشمی نے کہا کہ سندھ کے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن