سانحہ گل پلازہ، تابش ہاشمی کا بیان سندھ کے عوام کی توہین ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات و نشریات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے تابش ہاشمی کے سانحہ گل پلازہ سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے سندھ کے عوام کی توہین قرار دے دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ تابش ہاشمی نے جو ریمارکس دیے ایسے بیانات سندھ کے عوام کی توہین اور آئینی و انتظامی امور سے لاعلمی کا واضح ثبوت ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ’میزبان تابش ہاشمی نے حساس معاملے پر بغیر معلومات کے تبصرہ کیا جس کی وجہ سے عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ آئینی صوبہ ہے اور صوبائی حکومت جمہوری ڈھانچے و قوانین کے تحت چلتی ہے۔
مزید پڑھیںسندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان
سانحہ گل پلازہ؛ ملکی تاریخ میں پہلی بار جاں بحق 12افراد کی باقیات کی شناخت جدید طریقے سے کرلی گئی
سانحہ گل پلازہ؛ گورنر کا جوڈیشل کمیشن کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط
شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرز حکمرانی کو مذاق یا غیر سنجیدہ گفتگو کا موضوع نہیں بنایا جاسکتا، میڈیا پر بیٹھ کر سندھ یا کراچی کو پرائیوٹائز کرنے جیسے بیانات دینا غیر سنجیدگی اور عوام کے جذبات کومجروح کرنے کے مترادف ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ’کراچی پورے سندھ کا دل ہے اور شہر کے مسائل کا حل سنجیدہ پالیسی، وسائل و اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے، انہیں ٹی وی شوز پر ہونے والے نچلی سطح کے تبصروں سے حل نہیں کیا جاسکتا‘۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے اور عوامی مسائل پر تفریح کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ آواز اٹھائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ تابش ہاشمی نے کہا کہ سندھ کے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔