ہم امریکی سفارت خانوں اور اڈوں کو جہنم بنا دیں گے، سید ہاشم الحیدری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق عراق کی تحریک عهدالله کے سیکرٹری جنرل سید ہاشم الحیدری نے کہا ہے کہ احمق ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں جانتا، وہ نہیں جانتا کہ ولی فقیہ کون ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کی عهدالله تحریک کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ لاکھوں جانثار امریکی سفارت خانوں اور اڈوں کو جہنم میں بدلنے کے لیے تیار ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق عراق کی تحریک عهدالله کے سیکرٹری جنرل سید ہاشم الحیدری نے کہا ہے کہ احمق ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں جانتا، وہ نہیں جانتا کہ ولی فقیہ کون ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرتے ہیں تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ الحیدری نے خبردار کیا کہ ٹرمپ اور زوال پذیر اسرائیل سمیت پورے خطے ایک آتش فشاں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تاکید کی کہ اسلامی ایران کے اندر اور باہر لاکھوں جانثار خطے میں موجود تمام امریکی سفارت خانوں اور اڈوں کو جہنم میں بدلنے کے لیے اشارے اور فتوے کے منتظر ہیں۔ الحیدری نے کہا کہ وہ خطے میں موجود تمام امریکیوں کو نشانہ بنائیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الحیدری نے نہیں جانتا نے کہا
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔