ٹرمپ کی کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت کیوبا کو تیل فروخت یا فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کی مصنوعات پر امریکا ٹیرف عائد کرے گا۔
اس فیصلے سے توانائی بحران کا شکار کیوبا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس اقدام کا سب سے زیادہ دباؤ میکسیکو پر پڑنے کا امکان ہے، جو طویل عرصے سے کیوبا کو تیل فراہم کرتا آ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کیوبا کو ایک ناکام ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو زبردستی دباؤ میں لانا نہیں چاہتے، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں کیوبا کا نظام زیادہ دیر تک چلتا دکھائی نہیں دیتا۔
مزید پڑھیںٹرمپ کی درخواست پر پیوٹن نے کیف پر حملہ نہ کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی
ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں؛ جرمنی بھی ٹرمپ کی زبان بولنے لگا
ٹرمپ کی دھمکی نہ چلی؛ ایران میں اسرائیل کیلیے جاسوسی پر ایک اور شخص کو پھانسی
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے امریکی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کیوبا اور اس کے عوام کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بلیک میلنگ اور دباؤ کے ذریعے دیگر ممالک کو کیوبا کے خلاف پابندیوں میں شامل کرنا چاہتا ہے۔
کیوبا اس وقت شدید توانائی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور اپنی ضروریات کے لیے میکسیکو، روس اور وینزویلا جیسے اتحادی ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے بعد وہاں سے کیوبا کو تیل کی فراہمی بند ہو چکی ہے۔
میکسیکو کی سرکاری تیل کمپنی پیمیکس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں کیوبا کو روزانہ تقریباً 20 ہزار بیرل تیل فراہم کیا جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں یہ مقدار کم ہو کر تقریباً 7 ہزار بیرل رہ گئی۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے تیل کی فراہمی میں کمی کو تجارتی معاہدوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کے دباؤ کا نتیجہ نہیں۔
میکسیکو میں اس معاملے پر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے، جبکہ کیوبا میں عوام پہلے ہی ایندھن کی قلت کے باعث طویل قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی فیصلے سے لاطینی امریکا میں سیاسی اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیوبا کو تیل کے مطابق ٹرمپ کی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز