بسنت کے رنگ فیشن مارکیٹ میں، پاکستانی برانڈز کی خصوصی کلیکشنز اور آفرز
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
بسنت کے رنگا رنگ تہوار کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے معروف فیشن اور لائف اسٹائل برانڈز نے اپنی خصوصی بسنت کلیکشنز متعارف کرا دی ہیں۔
ان کلیکشنز میں روایتی ثقافت، شوخ رنگوں اور جدید فیشن کا حسین امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے، جو نوجوانوں میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج، پتنگ سازوں کے پاس آرڈرز کی بھر مار
مختلف برانڈز نے اپنی بسنت کلیکشنز میں زرد، سبز، نارنجی اور نیلے رنگوں کو نمایاں رکھا ہے، جبکہ کپڑوں پر پتنگ، پھولوں اور دیسی نقش و نگار کے دلکش ڈیزائن بسنت کی خوشیوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔
خواتین کے ملبوسات کے ساتھ ساتھ مردوں اور بچوں کے لیے بھی خصوصی ڈیزائن پیش کیے گئے ہیں، کئی برانڈز نے محدود ایڈیشن کلیکشنز لانچ کی ہیں جو آن لائن اور منتخب اسٹورز پر دستیاب ہیں۔
فیشن انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت پاکستان کی ثقافتی پہچان کا اہم حصہ ہے، اور ان کلیکشنز کا مقصد نہ صرف فیشن کو فروغ دینا ہے بلکہ مقامی روایات کو بھی زندہ رکھنا ہے۔
بسنت کلیکشنز نے مارکیٹ میں ایک بار پھر رنگ اور خوشی بکھیر دی ہے، اور یہ اقدام مقامی فیشن انڈسٹری کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات
اسی تناظر میں پاکستان کے بڑے اور چھوٹے فیشن برانڈز نے بسنت کے موقع پر نہ صرف خصوصی کلیکشنز لانچ کر دی ہیں بلکہ صارفین کے لیے خصوصی آفرز اور رعایتی سیل کا بھی اعلان کیا ہے۔
سفائر، نشاط، سو کمال، بریزے مین، منی کلب اور دیگر معروف و ابھرتے ہوئے برانڈز کی جانب سے متعارف کروائی گئی بسنت اسپیشل ایڈیشن کلیکشنز میں زرد، سبز، نارنجی اور نیلے رنگ نمایاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آفرز بسنت بسنت اسپیشل ایڈیشن ڈیزائنر رعایتی سیل فیشن انڈسٹری فیشن برانڈز ماہرین ملبوسات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسنت اسپیشل ایڈیشن ڈیزائنر رعایتی سیل فیشن انڈسٹری فیشن برانڈز ماہرین ملبوسات کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔