بسنت کی تیاریاں، 10 سرکاری سکولوں کی چھتیں بسنت کے لیے مختص
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
جنید ریاض: بسنت کے تہوار کے موقع پر لاہور انتظامیہ کی بھرپور تیاریاں شروع ، اندرون لاہور کے 10 سرکاری سکولوں کی چھتیں بسنت کے لیے مختص کر دی گئی ہیں جبکہ حکام نے محکمہ سکول ایجوکیشن کو سکولوں کی رپورٹ بھی بھجوا دی ہے۔
ان سکولوں میں گورنمنٹ ہائی سکول بھاٹی گیٹ، دہلی گیٹ، سید مٹھا بازار اور شاہ عالم گیٹ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ وکٹوریل گرلز ہائی سکول، تکیہ سادھواں، کابلی مل اور چونا منڈی کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
حکام نے سکولوں میں نگران عملے کو بسنت کے تین روز چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر سکول وزٹ کر کے انتظامات کا جائزہ لیں گے، اور ناقص انتظامات کی صورت میں متعلقہ ہیڈز کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بسنت کے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔