لاہور میں بسنت 2026 کیلئے 12 نکاتی حفاظتی ضابطہ اخلاق، چھتوں پر اجازت نامہ لازمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی42: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق ثقافتی تہوار بسنت کو محفوظ اور پرامن انداز میں منانے کیلئے ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیر قیادت حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ لاہور کے اندرون شہر، ہاؤسنگ سوسائٹیز، کمرشل عمارتوں اور چھتوں سمیت شہر بھر میں بسنت میلہ سجایا جائے گا، تاہم شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے سیف بسنت کے لیے 12 نکاتی کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق بسنت کے دوران ڈرون کیمروں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے چھتوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی غیر قانونی یا خطرناک سرگرمی کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔ 30 افراد سے زائد گنجائش والی پرائیویٹ و کمرشل عمارتوں کی چھتوں پر بسنت کے پروگرام کیلئے اجازت نامہ لازمی ہوگا، اور بڑے اجتماعات کیلئے دستاویزات کی فراہمی اور آن لائن اجازت ناموں کا طریقہ کار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے منظور شدہ عمارتوں اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جبکہ درخواست گزار اپنے اصل شناختی کارڈ کی دونوں اطراف پورٹل پر اپ لوڈ کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے شہریوں سے کہا ہے کہ اجازت نامے کیلئے تمام کوائف اور دستاویزات کی درستی یقینی بنائیں اور بسنت سے قبل ضلعی انتظامیہ سے قانونی اجازت نامے کا عمل مکمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔