سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کے ہر روڈ پر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں۔ شہر کی ہر سڑک پر جدید بس چلے گی۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ دعا کیا گیا، جس میں پاکستان کی بقا و سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر سانحہ گل پلازہ کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی جب کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے بھی دعا کی گئی۔
پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو نے لاہور کے واقعے پر دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب لاہور کو بھی وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ ہوگا۔
اجلاس کے دوران اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ 14 سال کے بعد سندھ اسمبلی کامن ویلتھ کانفرنس کی میزبانی کر رہی ہے ۔ پوری سندھ اسمبلی اس عالمی کانفرنس کی میزبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کو ثابت کرنا ہے کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں ۔ ارکان اسمبلی اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں۔ اسپیکر نے بتایا کہ یہ کانفرنس 4 فروری کو سندھ اسمبلی میں ہوگی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے تحریک پیش کی کہ سندھ اسمبلی میں عالمی کانفرنس ہوگی اور اسمبلی ہال کو کانفرنس ہال میں تبدیل کیا جائے، جسے سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالات کے جواب سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے دیے۔ ایم کیو ایم کے رکن نے ماڈل کالونی کے روٹ پر ریڈ بس کی بحالی سے متعلق سوال کیا جس پر شرجیل میمن نے کہا کہ مزید بسیں کراچی پورٹ پر موجود ہیں ۔ کراچی کی ہر سڑک پر جدید بسیں چلیں گی۔
وقفہ سوالات کے دوران شرجیل میمن نے بتایا کہ ٹریفک کے لیے اسمارٹ سسٹم پر کام ہو رہا ہے، سپاہی کے پاس وائرلیس سسٹم ہوتا ہے ۔ ٹریفک نظام آٹو میٹک اور مینوئل دونوں طریقوں سے چلتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک ڈپارٹمنٹ کی سفارشات کی بنیاد پر سگنلز لگائے جاتے ہیں ۔ ٹریفک کے یوٹرن بھی اسی حساب سے بنائے جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں ٹریفک ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے اقدامات کیے تھے کیونکہ شہر میں موجود بس اڈوں کی وجہ سے ٹریفک کا رش بڑھتا تھا، جس پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے فیصلہ کیا کہ بسوں کو شہر سے باہر رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ بس ٹرمینلز سے مفت شٹل سروس چل رہی ہے، سہراب گوٹھ بس اڈے سے بھی شٹل سروس جاری ہے جب کہ کراچی کے بس ٹرمینل والے خود چارج کرتے ہیں اور حکومت کا اس میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو رہا۔
سینئر صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ 15 ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ نجی کمپنی کی جانب سے مفت ٹریننگ دی جا رہی ہے اور جن خواتین نے ٹریفک ٹیسٹ پاس کیا ہوگا انہیں اسکوٹی فراہم کی جائے گی۔
انفرا اسٹرکچر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکیں بن رہی ہیں، کے ایم سی اور محکمہ بلدیات سڑکوں کی تعمیر کر رہے ہیں، کراچی میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں اور حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ نے 90 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی نے بتایا کہ شرجیل میمن نے کہا کہ انہوں نے کہ کراچی کے لیے دعا کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔