اڈیالہ کا قیدی سزا پوری کرکے ہی آزاد ہوگا: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں موجود قیدی اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد ہی رہا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اصل ایجنڈا صرف یہ ہے کہ قیدی کو کس طرح رہائی دلائی جائے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق قیدی سزا پوری کیے بغیر آزاد نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے تو مریض کا علاج کرانا کوئی غلط بات نہیں۔
گورنر نے وادی تیراہ میں آپریشن سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں ہر سال سردیوں کے موسم میں لوگ نقل مکانی کرتے ہیں اور اس وقت وہاں صرف لفظی جنگ جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے اس مد میں 4 ارب روپے مختص کیے ہیں اور آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 50 سے 60 فیصد افراد ممکنہ آپریشن کے خدشے کے باعث نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ ماضی میں سردیوں کے دوران بچوں کے ساتھ تقریباً 30 فیصد لوگ نقل مکانی کیا کرتے تھے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں ہر جگہ کی جاتی ہیں، چاہے کسی کو پسند آئے یا نہ آئے، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد موجود ہوں گے وہاں آپریشن کیا جائے گا۔
آخر میں گورنر خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ دو پارٹیاں بنا لے، جن میں سے ایک کا نام تحریکِ انتشار بھی رکھا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔