انقرہ: ایران نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ رہے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ترکی اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ترک حکام ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ رعایتیں دے تاکہ خطے کو ایک بڑے اور تباہ کن تنازع سے بچایا جا سکے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو سکے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کی جانب سے بیانات سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا حکم دیا تو امریکی فوج اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس معاہدے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران سے بات چیت کے خواہاں ہیں اور جنگ سے بچنا بہتر ہوگا۔

مزید پڑھیں

ایران کی جوہری تنصیب پر ممکنہ حملہ، روس نے عملے کے انخلا کا عندیہ دے دیا

امید ہے ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، ٹرمپ

پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد قرار دیکر یورپ سنگین غلطی کر رہا ہے؛ ایران

دوسری جانب ایران نے بھی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ کے مطابق جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ایک ہزار نئے زمینی اور بحری ڈرونز تیار کیے ہیں، جبکہ بیلسٹک میزائل صلاحیت بھی برقرار ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ایک طرف ممکنہ فوجی تصادم کے لیے تیار ہے تو دوسری جانب سفارتی راستے بھی استعمال کر رہا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فدان نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ خطے کے لیے خطرناک ہوگا اور مسئلے کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ ان کے مطابق ایران کو خطے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

علاقائی صورتحال کے پیش نظر خلیجی ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی