اوورسیز پاکستانی اور او پی ایف: ایک خاموش المیہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اوورسیز پاکستانی اور او پی ایف: ایک خاموش المیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
تحریر :چوہدری شفقت محمود دھول ،صدر پاکستان انوسٹر فورم جدہ سعودی عرب
پاکستان کی معیشت کا پہیہ جس خونِ جگر سے چلتا ہے، وہ اکثر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی محنت سے کمائی گئی ترسیلاتِ زر ہوتی ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجنے والے اوورسیز پاکستانی محض مالی معاون نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کے سب سے بڑے غیر اعلانیہ سفیر ہیں۔ انہی کے لیے ادارہ برائے اوورسیز پاکستانی (OPF) قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے ہی وطن میں بے یار و مددگار نہ رہیں۔ مگر آج ایک اوورسیز پاکستانی ناصر اعوان کا مقدمہ اس ادارے کے وجود پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
ناصر اعوان کوئی سیاست دان نہیں، نہ بااثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ان لاکھوں پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے برسوں پردیس میں مشقت کر کے وطن میں زمین خریدی، خواب بسائے اور مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ تمام قانونی دستاویزات، ریونیو ریکارڈ اور ملکیتی ثبوت موجود ہونے کے باوجود طاقت ور قبضہ گروہوں نے ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے قانون کا راستہ اپنایا، تھانوں اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر انصاف فائلوں میں دفن ہوتا چلا گیا۔ یہ تاخیر محض عدالتی سستی نہیں، بلکہ ایک انسان کی زندگی پر براہِ راست وار ثابت ہوئی۔
ریاستی بے حسی اور مسلسل ناانصافی نے ناصر اعوان اور ان کے خاندان کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ انہوں نے تین مرتبہ انتہائی مایوسی کے عالم میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ جملہ لکھنا بھی شرم ناک ہے، مگر اس سے زیادہ شرم ناک یہ ہے کہ یہ سب ایک اوورسیز پاکستانی کے ساتھ اس کے اپنے ملک میں ہو رہا ہے۔ یہ صرف ایک کیس نہیں، یہ نظام کی ناکامی کی دستاویز ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ زمین کس کی ہے—سوال یہ ہے کہ اگر ایک اوورسیز پاکستانی اپنی کمائی، جان اور عزت کے تحفظ کے لیے ریاست کی طرف دیکھے اور جواب میں خاموشی پائے تو پھر OPF کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟
کیا OPF صرف سیمینارز، بیانات اور رسمی ملاقاتوں تک محدود ہے؟ یا پھر وہ واقعی اوورسیز پاکستانیوں کی ڈھال بننے کے لیے قائم کیا گیا تھا؟
اوورسیز پاکستانیوں کو مسلسل یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں، رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگائیں، وطن سے جڑیں۔ مگر ناصر اعوان جیسے کیسز ایک خوف ناک پیغام دیتے ہیں کہ طاقت ور قبضہ کر سکتا ہے، انصاف خاموش رہ سکتا ہے اور ادارے تماشائی بن سکتے ہیں۔
ادارہ برائے اوورسیز پاکستانی سے پُرزور مطالبہ ہے کہ ناصر اعوان کے کیس کا فوری نوٹس لیا جائے، ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور اس کیس کو مثالی فیصلہ بنا کر اوورسیز پاکستانیوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
اوورسیز پاکستانی کسی رعایت کے طلب گار نہیں، وہ صرف انصاف مانگتے ہیں۔ اگر ان کی کمائی، جان اور وقار محفوظ نہ رہے تو یاد رکھیے، یہ صرف ایک خاندان کی شکست نہیں ہوگی بلکہ ریاست پر اعتماد کا جنازہ ہوگا۔
ناصر اعوان کا مقدمہ ایک زمین کا تنازع نہیں، یہ ریاستی ذمہ داری، انسانی وقار اور OPF کے مقصدِ وجود کا کڑا امتحان ہے۔ اب یہ فیصلہ اداروں نے کرنا ہے کہ وہ تاریخ میں محافظ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے یا خاموش تماشائی کے طور پر
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں شہریوں کی جان کے تحفظ کیلئے تمام کھلے گٹروں پر معیاری ڈھکن لگانے کا فیصلہ ڈیووس کی آواز چبوترے سے اٹھتی آوازیں: پچوانہ میں مکالمہ اور معافی کی روایت سوئٹزرلینڈ: ہوا سے چلنے والی برقی توانائی قطبِ شمالی میں طاقت کا نیا کھیل گُل پلازہ: آتشزدگی اور اجتماعی بےحسی سوئٹزرلینڈ میں “گرل ڈنر” ٹرینڈ، سرد کھانے کی مقبولیت میں اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک