پاور آف دی پاور لیس اور انٹرنیشنل ورلڈ آڈر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(آخری حصہ)
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
کل کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی ڈیوس میں تقریر پر استاد داغ کے اس بے مثل شعر کے آئینے میں ہم نے یورپی ہیپو کریسی اور منافقت کے بارے میںعرض کی تھی۔ اب جب کہ صدرٹرمپ بشمول یورپ دنیا سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’یاتو ہمارا حصہ بن جائو یا پھر ہمارے ہتھیاروں، پابندیوں یا ٹیرف کے ہاتھوں مارے جائو‘‘ یہی کارنی کے انٹرنیشنل عالمی نظام کے ٹوٹنے کے خیال کی وجہ بنی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈ آڈر ٹوٹ رہا ہے۔ اس کی علامات کافی عرصے سے نظر آرہی ہیں۔
ہمار ے پڑوس میں، بھارت میں ہی نہیں یورپی ممالک میں بھی ایک عرصے سے رائٹ ونگ یعنی قدامت پسند اقتدار میں آرہے ہیں جو مضبوط قوم پرستی، قومی شناخت، خود مختاری اور حب الوطنی اور سب سے بڑھ کر امیگریشن پابندیوں پر زور دیتے ہیں جس کی بنا پر اقلیتوں اور مہاجرین کے خلاف تعصب کے واقعات بڑھ رہے۔ فرانس میں 2024 اور پھر 2025 کے انتخاب میں مارین لی پین کی کامیابی جو غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی (remigration) کی بات کرتی ہیں یا اٹلی میں جارجیا میلونی کی کامیابی جو امیگریشن کو قومی خطرہ قرار دیتی ہیں۔ جرمنی، سویڈن، نیدر لینڈ، آسٹریا میں بھی یہی صورتحال ہے۔ عالمی تعاون کو یوں چیلنج کرنا انٹرنیشنل ورلڈ آڈر کو کمزور کررہا ہے۔
رائٹ ونگ پاپولزم کا عالمی عروج بھی ورلڈ آڈر کو کمزور کررہا ہے کیونکہ یہ لیڈران عالمی تعاون کے بجائے تقسیم پر زور دیتے ہیں۔ یہ رہنما جیسے امریکا میں صدرٹرمپ، یورپ میں لی پین اور جارجیا میلونی اور جرمنی میں AFD جیسی پارٹیاں یورپی یونین کی یکجہتی کو کمزور کررہی ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکا کے ممالک ارجنٹائن میں جیوئر میلی کی حکومت اور ایشیا میں نریندر مودی کی حکومت علاقائی تنازعات کو، قوم پرستی کو اور ڈی گلوبلائزیشن کو بڑھا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ ختم ہونے کے قریب ہے، یہ الفاظ اگر شدت پر مبنی ہیں تو پھر یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ عالمی معاملات میں اقوام متحدہ کا اثر اور کردار خاتمے کے قریب ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کے 66 اداروں سے امریکا کا اخراج کا حکم دے چکے اور فنڈنگ ختم کرچکے ہیں۔ یہ رحجانات اس لبرل بین الاقوامی نظام کے خلاف اور خاتمے کی علامات ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا۔
ٹرمپ جب سے برسر اقتدار آئے ہیں وہ ایک عالمی طاقت کے سربرا ہ کے بجائے ایک Rogue man یعنی خود سر، ضدی، ہٹ دھرم اور بدمعاش کے طور پر عمل کررہے ہیں۔ عالمی نظام سے وہ ایک تباہ کن بیل کی طرح پیش آرہے ہیں۔ پہلی ٹرم (2017-2021) میں بھی ان کی امریکا فرسٹ پالیسی نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا تھا۔ دوسری ٹرم میں اقوام متحدہ کی جن انٹرنیشنل آرگنائزشنز سے انہوں نے امریکا کو نکالا ہے ان میں WHO، UNESCO جیسے ادارے شامل ہیں۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں گرین لینڈ، ٹیرف، ناٹو کو کمزور کرنا، چین کے ساتھ تنائو، ایران میں مداخلت، ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل اور گلوبل ٹریڈ کو درہم برہم کردینا وہ ایک rogue کی طرح عالمی آڈر کو درہم برہم کررہے ہیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ان تمام عوامل میں انٹرنیشنل ورلڈ آڈر ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ انہیں اور یورپی ممالک کو ورلڈ آڈر اس وقت بھی ختم ہوتا نظر نہیں آیا جب امریکا نے ناٹو ممالک کی مدد سے عراق جیسے خوش حال ملک کو برباد کرکے رکھ دیا تھا اور بعد میں برطانیہ نے یہ کہہ کر معافی مانگ لی تھی کہ ہمیں عراق میں ’’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘‘ نہیں ملے۔ افغانستان کو ناٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر تاراج کردیا کسی یورپی ملک کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے نام پر دہائیوں سے امریکا نے پابندیاں لگائی رکھی ہیں حالانکہ اسرائیل کے باب میں سب کو پتا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ کسی یورپی ملک کو اس میں منافقت اور دوعملی محسوس ہوئی؟ اس وقت ورلڈ آڈر کہاں تھا؟ 22 جون 2025 سے 28 جون تک امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا۔ امریکا نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو B-2 بمبار طیاروں کے ذریعے تباہ کردیا لیکن یورپی ممالک نے ان حملوں کی لاقانونیت پر کیا بات کی؟ اس مہینے کی ابتدا میں صدرٹرمپ براہ راست ایران میں مظاہرین کو اداروں پر قبضہ کرنے کی شہ دیتے رہے۔ اسرائیل نے ایکس پر موساد کے سڑکوں پر ہونے کی بات کی۔ اس وقت ورلڈ آڈر کن خوابوں سورہا تھا؟ دو برس سے زائد ہورہے ہیں اسرائیل غزہ میں مسلم عوام کی لائیو نسل کشی کر رہا ہے، کئی لاکھ عورتوں، بچوں اور مردوں کو شہید کردیا۔ یورپی ممالک اسے اسرائیل کا حق دفاع قرار دیتے رہے اور اسرائیل کو مسلسل مالی امداد اور ہتھیار دیتے رہے مارک کارنی کی بصیرت ان اوقات میں کہاں تھیں؟
سوال یہ ہے کہ مار ک کارنی کو اُس وقت ورلڈآڈر کیوں ختم ہوتا نظر نہیں آیا؟؟ کیونکہ اُس وقت وہ امریکا کے اتحادی کی حیثیت سے ان جارحیتوں اور عالم اسلام پر مسلط کرنے والی جنگوں اور عذابوں کو انجوائے کررہے تھے اسے خوشگوار فنکشن قراردے رہے تھے لیکن اب جب کہ آگ ان کے گھر تک پہنچی ہے، منفی اثرات یورپ کو جلایا چاہتے ہیں انہیں انٹرنیشنل ورلڈ آڈرٹوٹتا ہوا نظر آگیا۔ جب ٹرمپ نے خوشی سے سہی ورنہ زبردستی گرین لینڈ کو ہتھیانے کی بات کی، محصولات اور ٹیرف کے ذریعے یورپی ممالک کی تجارت کو درہم برہم کردیا، یورپ کے دفاع سے ہاتھ اٹھا لیا، ناٹو کو قریب المرگ کردیا تب انہیں rules-based international order ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔
مارک کارنی کی یہ دوعملی مغربی ممالک کی اسلام اور مسلمانوں کے باب میں صلیبی جنگوں کی فضا میں رہنے کا نتیجہ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ انٹرنیشنل ورلڈ آڈر شکست وریخت کا شکار ہوکر ٹوٹ چکا ہے بس اس کی تدفین باقی ہے۔ یہ ورلڈآڈر دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 میں امریکا کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا جس میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے استیصالی ادارے بنے۔ فری ٹریڈ کو فروغ ملا۔ 1970 میں اسے پیٹرو ڈالر سے منسلک کیا گیا۔ 1990 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ امریکا کی یونی پولر ورلڈ بن گیا۔ کارنی کی تقریر امریکا کے یونی پولر اور ساتھ ہی انٹر نیشنل ورلڈ آڈر کے خاتمے کا بھی اعلان ہے۔ اب ایک نیا نظام بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یوں 80 برس کے اندر اندر مغرب کا وہ عالمی نظام زمین بوس ہو گیا جو اسلام کو چیلنج کرتا تھا۔ اسلام کو جو ہزار برس سے زائد دنیا پر غالب نظام رہا تھا اور ایک بار پھر آب وتاب سے خلافت کی صورت طلوع ہونے والا ہے۔ ان شاء اللہ۔
اقبال نے جب اہل مغرب کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرلے گی تو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ واقعہ اتنی جلدی پیش آسکتا ہے۔ یہ کوئی ناگزیر فطری منطق نہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کا استیصالی سماجی کردار، سود، طبقاتی امتیاز، دوہرے معیار، سیکو لرازم، ٹیکنالوجی کی بے لگام ترقی، ہتھیار، اقتصادی جبر، انسانی روح اور اخلاقیات سے خالی قیادتیں اور حکومتیں، عدم مساوات، مالی بحران، ڈی گلوبلائزیشن، اقتصادی قوم پرستی، مادی حرص، ماحولیاتی تباہی اور امریکی بالادستی۔ مغربی تہذیب کے یہ وہ خنجر تھے جنہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی لرزتی شاخ پر بنے نازک آشیانے کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ خود مغرب کے اندر ہی سے جس کا اعلان کیا گیا۔ خود مغرب کے اندر ہی سے اقبال کی تائید کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل ورلڈ ا ڈر اقوام متحدہ یورپی ممالک مارک کارنی امریکا نے کو کمزور کارنی کی میں بھی رہے ہیں رہا ہے نہیں ا
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔