Jasarat News:
2026-07-24@03:52:00 GMT

پاور آف دی پاور لیس اور انٹرنیشنل ورلڈ آڈر

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

(آخری حصہ)

دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

کل کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی ڈیوس میں تقریر پر استاد داغ کے اس بے مثل شعر کے آئینے میں ہم نے یورپی ہیپو کریسی اور منافقت کے بارے میںعرض کی تھی۔ اب جب کہ صدرٹرمپ بشمول یورپ دنیا سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’یاتو ہمارا حصہ بن جائو یا پھر ہمارے ہتھیاروں، پابندیوں یا ٹیرف کے ہاتھوں مارے جائو‘‘ یہی کارنی کے انٹرنیشنل عالمی نظام کے ٹوٹنے کے خیال کی وجہ بنی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈ آڈر ٹوٹ رہا ہے۔ اس کی علامات کافی عرصے سے نظر آرہی ہیں۔

ہمار ے پڑوس میں، بھارت میں ہی نہیں یورپی ممالک میں بھی ایک عرصے سے رائٹ ونگ یعنی قدامت پسند اقتدار میں آرہے ہیں جو مضبوط قوم پرستی، قومی شناخت، خود مختاری اور حب الوطنی اور سب سے بڑھ کر امیگریشن پابندیوں پر زور دیتے ہیں جس کی بنا پر اقلیتوں اور مہاجرین کے خلاف تعصب کے واقعات بڑھ رہے۔ فرانس میں 2024 اور پھر 2025 کے انتخاب میں مارین لی پین کی کامیابی جو غیرقانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی (remigration) کی بات کرتی ہیں یا اٹلی میں جارجیا میلونی کی کامیابی جو امیگریشن کو قومی خطرہ قرار دیتی ہیں۔ جرمنی، سویڈن، نیدر لینڈ، آسٹریا میں بھی یہی صورتحال ہے۔ عالمی تعاون کو یوں چیلنج کرنا انٹرنیشنل ورلڈ آڈر کو کمزور کررہا ہے۔

رائٹ ونگ پاپولزم کا عالمی عروج بھی ورلڈ آڈر کو کمزور کررہا ہے کیونکہ یہ لیڈران عالمی تعاون کے بجائے تقسیم پر زور دیتے ہیں۔ یہ رہنما جیسے امریکا میں صدرٹرمپ، یورپ میں لی پین اور جارجیا میلونی اور جرمنی میں AFD جیسی پارٹیاں یورپی یونین کی یکجہتی کو کمزور کررہی ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکا کے ممالک ارجنٹائن میں جیوئر میلی کی حکومت اور ایشیا میں نریندر مودی کی حکومت علاقائی تنازعات کو، قوم پرستی کو اور ڈی گلوبلائزیشن کو بڑھا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ ختم ہونے کے قریب ہے، یہ الفاظ اگر شدت پر مبنی ہیں تو پھر یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ عالمی معاملات میں اقوام متحدہ کا اثر اور کردار خاتمے کے قریب ہے۔ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کے 66 اداروں سے امریکا کا اخراج کا حکم دے چکے اور فنڈنگ ختم کرچکے ہیں۔ یہ رحجانات اس لبرل بین الاقوامی نظام کے خلاف اور خاتمے کی علامات ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا۔

ٹرمپ جب سے برسر اقتدار آئے ہیں وہ ایک عالمی طاقت کے سربرا ہ کے بجائے ایک Rogue man یعنی خود سر، ضدی، ہٹ دھرم اور بدمعاش کے طور پر عمل کررہے ہیں۔ عالمی نظام سے وہ ایک تباہ کن بیل کی طرح پیش آرہے ہیں۔ پہلی ٹرم (2017-2021) میں بھی ان کی امریکا فرسٹ پالیسی نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا تھا۔ دوسری ٹرم میں اقوام متحدہ کی جن انٹرنیشنل آرگنائزشنز سے انہوں نے امریکا کو نکالا ہے ان میں WHO، UNESCO جیسے ادارے شامل ہیں۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں گرین لینڈ، ٹیرف، ناٹو کو کمزور کرنا، چین کے ساتھ تنائو، ایران میں مداخلت، ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل اور گلوبل ٹریڈ کو درہم برہم کردینا وہ ایک rogue کی طرح عالمی آڈر کو درہم برہم کررہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ان تمام عوامل میں انٹرنیشنل ورلڈ آڈر ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ انہیں اور یورپی ممالک کو ورلڈ آڈر اس وقت بھی ختم ہوتا نظر نہیں آیا جب امریکا نے ناٹو ممالک کی مدد سے عراق جیسے خوش حال ملک کو برباد کرکے رکھ دیا تھا اور بعد میں برطانیہ نے یہ کہہ کر معافی مانگ لی تھی کہ ہمیں عراق میں ’’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار‘‘ نہیں ملے۔ افغانستان کو ناٹو ممالک کے ساتھ مل کر امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر تاراج کردیا کسی یورپی ملک کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایران پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے نام پر دہائیوں سے امریکا نے پابندیاں لگائی رکھی ہیں حالانکہ اسرائیل کے باب میں سب کو پتا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ کسی یورپی ملک کو اس میں منافقت اور دوعملی محسوس ہوئی؟ اس وقت ورلڈ آڈر کہاں تھا؟ 22 جون 2025 سے 28 جون تک امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا۔ امریکا نے ایران کی تین ایٹمی تنصیبات کو B-2 بمبار طیاروں کے ذریعے تباہ کردیا لیکن یورپی ممالک نے ان حملوں کی لاقانونیت پر کیا بات کی؟ اس مہینے کی ابتدا میں صدرٹرمپ براہ راست ایران میں مظاہرین کو اداروں پر قبضہ کرنے کی شہ دیتے رہے۔ اسرائیل نے ایکس پر موساد کے سڑکوں پر ہونے کی بات کی۔ اس وقت ورلڈ آڈر کن خوابوں سورہا تھا؟ دو برس سے زائد ہورہے ہیں اسرائیل غزہ میں مسلم عوام کی لائیو نسل کشی کر رہا ہے، کئی لاکھ عورتوں، بچوں اور مردوں کو شہید کردیا۔ یورپی ممالک اسے اسرائیل کا حق دفاع قرار دیتے رہے اور اسرائیل کو مسلسل مالی امداد اور ہتھیار دیتے رہے مارک کارنی کی بصیرت ان اوقات میں کہاں تھیں؟

سوال یہ ہے کہ مار ک کارنی کو اُس وقت ورلڈآڈر کیوں ختم ہوتا نظر نہیں آیا؟؟ کیونکہ اُس وقت وہ امریکا کے اتحادی کی حیثیت سے ان جارحیتوں اور عالم اسلام پر مسلط کرنے والی جنگوں اور عذابوں کو انجوائے کررہے تھے اسے خوشگوار فنکشن قراردے رہے تھے لیکن اب جب کہ آگ ان کے گھر تک پہنچی ہے، منفی اثرات یورپ کو جلایا چاہتے ہیں انہیں انٹرنیشنل ورلڈ آڈرٹوٹتا ہوا نظر آگیا۔ جب ٹرمپ نے خوشی سے سہی ورنہ زبردستی گرین لینڈ کو ہتھیانے کی بات کی، محصولات اور ٹیرف کے ذریعے یورپی ممالک کی تجارت کو درہم برہم کردیا، یورپ کے دفاع سے ہاتھ اٹھا لیا، ناٹو کو قریب المرگ کردیا تب انہیں rules-based international order ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔

مارک کارنی کی یہ دوعملی مغربی ممالک کی اسلام اور مسلمانوں کے باب میں صلیبی جنگوں کی فضا میں رہنے کا نتیجہ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ انٹرنیشنل ورلڈ آڈر شکست وریخت کا شکار ہوکر ٹوٹ چکا ہے بس اس کی تدفین باقی ہے۔ یہ ورلڈآڈر دوسری جنگ عظیم کے بعد 1945 میں امریکا کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا جس میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے استیصالی ادارے بنے۔ فری ٹریڈ کو فروغ ملا۔ 1970 میں اسے پیٹرو ڈالر سے منسلک کیا گیا۔ 1990 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد یہ امریکا کی یونی پولر ورلڈ بن گیا۔ کارنی کی تقریر امریکا کے یونی پولر اور ساتھ ہی انٹر نیشنل ورلڈ آڈر کے خاتمے کا بھی اعلان ہے۔ اب ایک نیا نظام بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یوں 80 برس کے اندر اندر مغرب کا وہ عالمی نظام زمین بوس ہو گیا جو اسلام کو چیلنج کرتا تھا۔ اسلام کو جو ہزار برس سے زائد دنیا پر غالب نظام رہا تھا اور ایک بار پھر آب وتاب سے خلافت کی صورت طلوع ہونے والا ہے۔ ان شاء اللہ۔

اقبال نے جب اہل مغرب کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرلے گی تو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ یہ واقعہ اتنی جلدی پیش آسکتا ہے۔ یہ کوئی ناگزیر فطری منطق نہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کا استیصالی سماجی کردار، سود، طبقاتی امتیاز، دوہرے معیار، سیکو لرازم، ٹیکنالوجی کی بے لگام ترقی، ہتھیار، اقتصادی جبر، انسانی روح اور اخلاقیات سے خالی قیادتیں اور حکومتیں، عدم مساوات، مالی بحران، ڈی گلوبلائزیشن، اقتصادی قوم پرستی، مادی حرص، ماحولیاتی تباہی اور امریکی بالادستی۔ مغربی تہذیب کے یہ وہ خنجر تھے جنہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کی لرزتی شاخ پر بنے نازک آشیانے کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ خود مغرب کے اندر ہی سے جس کا اعلان کیا گیا۔ خود مغرب کے اندر ہی سے اقبال کی تائید کی گئی۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انٹرنیشنل ورلڈ ا ڈر اقوام متحدہ یورپی ممالک مارک کارنی امریکا نے کو کمزور کارنی کی میں بھی رہے ہیں رہا ہے نہیں ا

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش