وزیراعلی سندھ نے سانحہ گل پلازہ پرجوڈیشل انکوائری کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وزیراعلی سندھ نے سانحہ گل پلازہ پرجوڈیشل انکوائری کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل انکوائری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا۔ اس سے قبل کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں، خط میں درخواست کی جائے گی سانحہ کی تحقیقات حاضر سروس جج سے کرائی جائے، کسی سیاسی جماعت کے دبا میں نہیں آئیں گے،گل پلازہ کے شہدا کو امدادی چیکس کی ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں، عدالتی کمیشن کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کے دبا میں نہیں کیا گیا، ہم کسی سیاسی جماعت کو نہیں عوام کو جوابدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند سیاسی جماعتیں سانحہ پر سیاست کر رہی ہیں، ہم ایسے واقعات پر سیاست نہیں کر رہے، چندجماعتیں کر رہی ہیں،سندھ حکومت کسی پریشر میں نہیں جو کام ہمیں کرنا ہے وہ کر رہے ہیں، ہمیں جب لگا ہم نے جوڈیشل انکوائری کے لیے لکھ دیا۔ سینئر وزیر سندھ کا کہنا تھا کہ گل پلازہ واقعہ کے بعد سندھ کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی کو کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ پرفیصلہ کرنا تھا،کمشنر کراچی کی بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے، یہ بہت تفصیلی رپورٹ ہے اس میں تمام لوگوں کے انٹرویو موجود ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت عمارت میں 2500 سے 2 ہزار لوگ تھے، گل پلازہ کا دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ ہوچکا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہوا، محکمہ سول ڈیفنس نیگل پلازہ کے 2023 سیکئی دورے کیے اور دو نوٹس دییگئے، سانحے میں 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی کمی کا سامنا رہا، شہید فائر فائٹر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے جان کا نذرانہ دیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو ایک چھت کے نیچے لایا جا رہا ہے، گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم اور دیگر اقدامات نہیں تھے، جب انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا تو ان کی بھی ذمہ داری تھی، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور ریسکیو کے اداروں کو ایک کمانڈ میں دینیکے لیے بھی فیصلہ کیا جا رہا ہے،کمیٹی نے بلڈنگ کیاجازت نامہ اور لیز میں سنگین غلطیوں کا انکشاف کیا ہے، ان بے ضابطگیوں پر محکمہ اینٹی کرپشن کو کارروائی کا کہا گیا ہے، عمارت کی تعمیر بلڈنگ پلان کے خلاف پائی گئی ہے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے دییگئے اجازت ناموں کا جائزہ لیا جائیگا، محکمہ اینٹی کرپشن کو کہا گیا ہیکہ اس سلسلے میں کوتاہیوں کی تحقیقات کرے، واقعے میں کسی بھی اعلی حکام کی غفلت سامنے آئی تو کارروائی ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین برطانیہ کے ساتھ تمام شعبوں میں زیادہ تبادلے کرنے کا خواہاں ہے، چینی وزیر اعظم کاروباری مشکلات سرمایہ کاروں کو بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں: سردار طاہر محمود پی آئی اے نجکاری، حکومت اور عارف حبیب کنسروشیم میں دستاویزات کا تبادلہ یو پی یونین پاکستان کا اہم اتحادی،تعلقات میں بہتری کیلئے پر عزم ہیں،وزیر اعظم برطانوی وزیراعظم کی صدر شی سے ملاقات، چین عالمی سطح پر اہم کھلاڑی قرار اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال انٹرنیشنل اداروں میں بھارتی شہری سیکیورٹی خطرہ بن گئے؟ عالمی رپورٹ میں تشویشناک انکشافاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سندھ کو خط لکھ گل پلازہ لکھ دیا کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔