گل پلازہ آگ بچوں کے ہاتھوں لگی، اے سی ڈکٹس کے ذریعے پھیلی،79 اموات
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی جس میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ بچوں کے ہاتھوں فلاور شاپ میں لگی جو ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی، 79 اموات ہوئیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں میزنائن فلور پر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے۔ کمشنر کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں لکھا ہے کہ گراو نڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی۔ ذرائع کا کہنا ہے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے سے 79 اموات ہوئیں، زیادہ تر اموات گل پلازا کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق رپوٹ میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی۔ پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے۔ فائر بریگیڈ کو واقعے کی اطلاع رات 10 بجکر 26 منٹ پر دی گئی۔ جبکہ ریسکیو 1122 کا عملہ رات 10 بجکر 53 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے گل پلازہ کی انکوائری پر عدم اطمینان کرتے ہوئے ایک بار پھر سانحے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ علی خورشیدی نے کہا کہ جس افسر کو جوابدہ ہونا چاہئے وہی انکوائری کر رہا ہے۔ اس انکوائری کو کون مانے گا؟ کمشنر کراچی کیسے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ ہم سانحہ گل پلازہ پر سیاست کر رہے ہیں تو معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائے، سیاست ختم ہو جائے گی۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی پیش کر دہ رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ اتنے بڑے سانحہ کا ذمہ دار کسی معصوم بچے کو قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ دوسری طرف گل پلازہ کے الم ناک سانحے میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے تقریباً 40 افراد کی شناخت کے امکانات ختم ہو گئے اور حکام نے بتایا ہے کہ عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لئے جانے والے نمونوں میں سے صرف 4 سے 5 افراد کے نمونوں کے نتائجے آنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔