وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کی ان چند مثالوں میں سے ہے جو وقت، حالات اور عالمی تبدیلیوں کے باوجود مسلسل مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ہے۔ یہ تعلق محض سفارتی یا معاشی نہیں بلکہ اعتماد، احترام، بھائی چارے اور باہمی تعاون پر مبنی ایک زندہ رشتہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چائنا ونڈو کے زیر اہتمام پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ اور جشنِ بہاراں کی مناسبت سے منعقدہ شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سابق گورنرز خیبر پختونخوا حاجی غلام علی اور اقبال ظفر جھگڑا، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان داؤد خان، وائس چانسلر یو ای ٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر صادق خٹک، بشپ ارنسٹ جیکب، تاجر برادری، صحافیوں، طلبا و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید پڑھیں: پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا آغاز، معدنی شعبے میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع

مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان نے 1951 میں عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرکے جس دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، وہ آج 75 برس بعد ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پاک چین دوستی کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت توانائی منصوبوں سے بجلی کے بحران میں نمایاں کمی آئی، موٹرویز اور شاہراہوں نے ملک کو شمال سے جنوب تک جوڑا جبکہ گوادر بندرگاہ نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی تجارت میں اہم مقام دلایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سے سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کو ایک برابر کے شراکت دار کے طور پر دیکھا، اسی لیے پاکستانی عوام کے دلوں میں چین کے لیے بے پناہ محبت اور احترام موجود ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر چائنا ونڈو کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا۔

سابق گورنر حاجی غلام علی نے کہا کہ پاک چین دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے تعلیمی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے چین کے عوام کو پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ اور جشنِ بہاراں پر مبارکباد دی اور چائنا ونڈو کے کردار کو سراہا۔

سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ پاک چین دوستی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ لین دین کے بجائے اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی

کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان داؤد خان نے بھی پاک چین دوستی کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تعلیمی، ثقافتی اور میڈیا روابط کے ذریعے اس رشتے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور شرکا میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ قبل ازیں چائنا ونڈو کے ایڈمنسٹریٹر امجد عزیز ملک نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ اس تقریب کا مقصد چین کے بہن بھائیوں کو پشاور اور خیبر پختونخوا سے امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امجد عزیز ملک پاک چین پاک چین دوستی چائنا ونڈو مزمل اسلم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امجد عزیز ملک پاک چین پاک چین دوستی چائنا ونڈو وزیراعلی خیبر پختونخوا پاک چین دوستی کی خیبر پختونخوا چائنا ونڈو کے نے کہا کہ انہوں نے کہ پاک کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم