شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں ادا کرنے کا پابند ہے: چیف جسٹس پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں ادا کرنے کا پابند ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جہیز اور حق مہر کیسز کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا حق مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، میرا موکل 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیہ پر آمادہ ہو جائیں، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
کراچی جانے والی ہزارہ ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے، شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے۔
سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف جسٹس پاکستان
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔