حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائیگا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
تہران (ویب ڈیسک) ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے ترجمان نے کہا کہ ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے فوجی منصوبے اور احکامات پہلے ہی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے ایک بار پھر کسی احمقانہ عمل کا ارتکاب کیا تو ایران فوری ردعمل دے گا۔انہوں نےکہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار جہاز ہمارے اہداف ہو سکتے ہیں۔ یہ اڈے ہمارے درمیانے فاصلے کے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور اس حوالے سے تمام ضروری منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا ایران کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔