گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کیا منظر تھا؟ رپورٹرز کا آنکھوں دیکھا حال
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
کراچی: شہرِ قائد کا مشہور زمانہ ’گل پلازہ‘، جو دہائیوں سے عید کی خریداری اور شادیوں کے سامان کا مرکز تھا، حالیہ ہولناک آگ کے بعد اب محض ایک سیاہ کھنڈر بن چکا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے رپورٹرز نے کولنگ کے عمل کے بعد عمارت کے اندر قدم رکھا اور اس سانحے کا دل دہلا دینے والا منظر بیان کیا۔
خوشی کا مرکز، اب موت کا سناٹا
رپورٹر عائشہ خان انصاری کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کراچی کا وہ ’گلدستہ‘ تھا جہاں ہر عمر اور طبقے کے لوگ آتے تھے۔ "اگر کسی کے گھر شادی ہو اور وہ گل پلازہ نہ جائے تو اس کی شادی ادھوری سمجھی جاتی تھی۔" شعبان کا مہینہ شروع ہوتے ہی دکانداروں نے عید کی تیاریوں کے لیے دکانیں مال سے بھر دی تھیں لیکن اب وہاں خوشیوں کے بجائے صرف کالک، دھواں اور ناقابلِ برداشت تپش باقی ہے۔
40 گھنٹے بعد کا ہولناک منظر
ساجد رؤف نے بتایا کہ آگ لگنے کے تقریباً 40 گھنٹے بعد جب انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت ملی، تو وہاں کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ سانس لینا محال تھا۔ "اندر صرف اندھیرا تھا اور جلے ہوئے سامان کی وہ مخصوص بو جو ہوش اڑا دے۔" انہوں نے بتایا کہ کئی دکانداروں نے اس امید میں شٹر گرا دیے تھے کہ آگ جلد بجھ جائے گی، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ شٹر ان کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو رہے ہیں۔
آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟
رپورٹرز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ محض 30 سے 45 منٹ کے اندر پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں کیسے آگئی؟ ساجد رؤف کے مطابق، "یہ ایک بڑا سوال ہے کہ آگ گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 7 تک اتنی جلدی کیسے پہنچی؟ کیا یہ بجلی کی تاروں کا شارٹ سرکٹ تھا یا عمارت میں موجود کیمیکل اور پلاسٹک کا سامان؟ اس کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔"
سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
رپورٹ کے مطابق کراچی کی 99 فیصد تجارتی عمارتوں میں ’فائر ایگزٹ‘ یا آگ بجھانے کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں۔ ساجد رؤف نے بتایا کہ دو سال قبل سروے کے باوجود کسی نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب دکانداروں سے ان انتظامات کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ تعاون کرنے کے بجائے لڑنے پر اتر آتے ہیں۔
کراچی والوں کی ایک ادھور ی عید
گل پلازہ کی فوڈ اسٹریٹ، وہاں کے چنا چاٹ اور کھٹے آلو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ رپورٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ اس بار کراچی والوں کی عید ویسی نہیں ہوگی، 1200 سے زائد دکانوں کا جلنا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی خوشیوں کا قتل ہے۔
رپورٹرز کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ ’ڈنڈے‘ کے زور پر سیفٹی قوانین نافذ نہیں کرے گی، ایسے حادثات معصوم شہریوں کی زندگیاں نگلتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :