بھاٹی گیٹ سانحہ ؛ آئی جی پنجاب کی قائم کردہ ہائی پاور کمیٹی کی انکوائری رپورٹ مکمل ؛ ایس پی سمیت 3 افسر ذمہ دار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی 42: بھاٹی گیٹ، ماں بیٹی کا سیوریج لائن میں گرکرجاں بحق ہونے کاواقعہ پر آئی جی پنجاب کی جانب سے قائم ہائی پاور کمیٹی کی انکوائری رپورٹ مکمل ہوگئی ۔
پولیس ذرائع کے مطابق کمیٹی اراکین نے شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کئے،متوفی سعدیہ اور بیٹی رِدا کے اہل خانہ کے بیانات قلمبند کئے۔ایس پی سٹی ،ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او کی غفلت پائی گئی۔
ایس پی کی موجودگی میں متوفی خاتون کے شوہر پر تشدد کیا گیا۔کمیٹی نے تینوں افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیا۔ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی عمران محمودکی سربراہی میں کمیٹی نے انکوائری کی۔ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور کمیٹی میں شامل ہیں ۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔