بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اطلاعات پنجاب سمیت متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست جوڈیشل ایکٹوزیم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جس میں حکومت پنجاب، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی استدعا کرتے ہوئے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتہائی گنجان آباد علاقے میں مین ہول کو کھلا چھوڑنا واضح غفلت اور لاپرواہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ، ماں بیٹی کی ہلاکت پر 3 ذمہ داران نامزد، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
’جس کے نتیجے میں 2 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ماں اور بیٹی کی ہلاکت کو حادثہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے، یہ واقعہ مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ہے۔
درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ لاہور میں ہر سال 10 ہزار سے زائد مین ہول کے ڈھکن چوری ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود حکومت اور متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا گیا کہ اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حکومت نے نمائشی اقدامات کیے۔
مزید پڑھیں: بھاٹی چوک حادثہ: داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل
درخواست میں پولیس کی جانب سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کرنے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سنگین واقعے میں سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے بعد پولیس اور حکومتی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کو ہراساں کیا اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کے اصل حقائق جاننے اور لواحقین کے لیے معاوضے کے تعین کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
مزید پڑھیں: لاہور: ’ گٹر میں گرنے والی ماں، بیٹی کی خبر کو فیک نیوز کہنے والوں پر پیکا لگے گا؟‘
مزید یہ کہ غفلت کے مرتکب افسران سے 25 کروڑ روپے کا معاوضہ وصول کر کے متاثرہ خاندان کو ادا کیا جائے۔
اس کے علاوہ غلط معلومات پھیلانے پر وزیر اطلاعات پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھاٹی گیٹ تعزیرات پاکستان جوڈیشل ایکٹوزیم پینل جوڈیشل کمیشن ڈپٹی کمشنر ڈھکن لاہور ماں اور بیٹی معاوضہ مقدمہ مین ہول وزیر اطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھاٹی گیٹ تعزیرات پاکستان جوڈیشل ایکٹوزیم پینل جوڈیشل کمیشن ڈپٹی کمشنر ڈھکن لاہور ماں اور بیٹی معاوضہ مین ہول وزیر اطلاعات وزیر اطلاعات درخواست میں بھاٹی گیٹ کے خلاف مین ہول کی گئی کے لیے گئی ہے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔