بے قابو آبادی سنگین سماجی و معاشی چیلنج ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بے قابو آبادی میں اضافے کو پاکستان کے سب سے بڑے سماجی اور معاشی چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مسلسل اور شواہد پر مبنی خاندانی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن اور پاپولیشن کونسل پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام ’وقفہ – توازن کے لیے‘ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 54 برس میں پاکستان کی آبادی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں دگنا بڑھی ہے، اور اگر وقت پر مناسب پالیسیز اپنائی جاتیں تو آج ملک کی آبادی قریباً 15 کروڑ 50 لاکھ ہوتی۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک سالہ حکومتی کارکردگی رپورٹ پیش کردی
انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کا مسئلہ مذہبی یا سیاسی نہیں بلکہ ایک سماجی اور اقتصادی مسئلہ ہے۔ مراد علی شاہ نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، ایران، ترکی اور دیگر ممالک نے آبادی کو کامیابی سے کنٹرول کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کم عمری کی شادی، مانع حمل ذرائع کے استعمال اور عوامی آگاہی جیسے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے ملک بہت پیچھے رہ گیا۔ انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی دی گئی، مگر موجودہ شرح آبادی اب بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ خاندانی منصوبہ بندی اور پولیو کے خاتمے کی مہمات میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ وہ آگاہی پیغامات کو خبرناموں کے آغاز میں نشر کریں تاکہ عوام اور والدین کو بچوں کے مستقبل سے متعلق باخبر بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:بٹن دبا کر پانی نہیں نکال سکتے، لوگوں کو سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہیے تھا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
مراد علی شاہ نے زور دیا کہ آبادی اور پولیو 2 بڑے قومی چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے، مستقل حکمت عملی اور معاشرتی شراکت داری ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’وقفہ – توازن کے لیے‘ بے قابو آبادی پاپولیشن کونسل پاکستان میر خلیل الرحمٰن فاؤنڈیشن وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وقفہ توازن کے لیے پاپولیشن کونسل پاکستان وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سندھ مراد علی شاہ مراد علی شاہ نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔