انقرہ، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہے، تُرک صدارتی دفتر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
رجب طیب اردگان سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے دائرے پر مبنی باعزت سفارتکاری کو آگے بڑھانا ہماری اصولی پالیسی کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ کے صدر "رجب طیب اردگان" نے آج اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر "مسعود پزشکیان" سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ کے ساتھ ایران کے عسکری تناو پر بات کی۔ تُرک ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، دونوں صدور نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر رجب طیب اردگان نے یقین دلایا کہ وہ تہران و واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور متنازعہ مسائل کے منصفانہ حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
آخر میں تُرک صدر نے ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے کہا کہ وہ آج ہی، رات گئے ایرانی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" سے دارالحکومت انقرہ میں ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ اس ٹیلیفون کال میں دونوں صدور نے علاقائی مسائل کے حل کے لئے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کسی بھی اشتعال انگیز، کشیدگی پیدا کرنے اور جنگ کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے۔ دوسری جانب ایرانی صدر نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے دائرے پر مبنی باعزت سفارت کاری کو آگے بڑھانا ہماری اصولی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایران کا نقطہ نظر بات چیت، باہمی احترام، دھمکی و دھونس کو مسترد کرنے پر مبنی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔