امریکی اڈے ہمارے میزائلوں کی رینج میں ہیں، حملہ ہوا تو فیصلہ کن جواب دیں گے: ایرانی فوج
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی فوج نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے فوجی منصوبے اور ضروری احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے دوبارہ کسی بھی غیر دانشمندانہ اقدام کی کوشش کی تو ایران بلا تاخیر جواب دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ اڈے ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی رینج میں ہیں، اور اس حوالے سے مکمل منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کے مطابق ملک کا دفاع اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا ایران کی اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔