امریکا ایران کشیدگی: ترکیہ نے ممکنہ تصادم سے بچنے کیلیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورے کے موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکالمے کے ذریعے تناؤ کم کرنے کے حوالے سے بات کریں گے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، جب کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات جمعہ کو متوقع ہے۔
دوسری جانب ترکیی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اپنی سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے اور وہاں کی حکومت کمزور ہوتی ہے تو ترکی اضافی اقدامات کے تحت سرحدی نگرانی سخت کرے گا۔
امریکا نے حالیہ مہینے میں ایران میں ہونے والے احتجاجات پر سخت ردِعمل کے بعد نئی فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔
نیٹو کا رکن ترکی، جو ایران کے ساتھ 530 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے، ترک ایران سرحد کے کچھ حصوں پر 380 کلومیٹر طویل دیوار موجود ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم