امریکا ایران کشیدگی: ترکیہ نے ممکنہ تصادم سے بچنے کیلیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورے کے موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکالمے کے ذریعے تناؤ کم کرنے کے حوالے سے بات کریں گے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، جب کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات جمعہ کو متوقع ہے۔
دوسری جانب ترکیی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اپنی سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔
ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے اور وہاں کی حکومت کمزور ہوتی ہے تو ترکی اضافی اقدامات کے تحت سرحدی نگرانی سخت کرے گا۔
امریکا نے حالیہ مہینے میں ایران میں ہونے والے احتجاجات پر سخت ردِعمل کے بعد نئی فوجی مداخلت کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑا بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔
نیٹو کا رکن ترکی، جو ایران کے ساتھ 530 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے، ترک ایران سرحد کے کچھ حصوں پر 380 کلومیٹر طویل دیوار موجود ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔