ماں بیٹی گرنے پر داتا دربار منصوبے کی پوری ٹیم معطل، ٹیپا ذمہ دار قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کر لی، واقعہ پر ٹیپا انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ غلط دی اور غلط بریف کیا گیا، بعض ویڈیوز اور شوہر کا بیان سننے کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کیا گیا۔ بتایا گیا کہ دوبارہ آپریشن کے دوران خاتون سعدیہ کی لاش ملی اور مسلسل آپریشن کے بعد کمسن بچی ردا فاطمہ کی لاش بھی مل گئی، وزیراعلیٰ کو بریف دی گئی کہ ٹیپا کے افسران کی غفلت کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔ ذرائع کے مطابق داتا دربار کے باہر لگے کیمروں نے مدد کی، سیف سٹی کے کیمروں سے موقع کی کلیئر ویڈیو نہ مل سکی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، مانیٹرنگ میں ذمہ داروں نے انتہائی غفلت برتی، سگیاں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی۔ دلخراش واقعہ پر شدید دکھ ہے مریم نواز وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے پورے عملے کو فوری طورپر معطل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ غفلت کسی صورت برداشت نہیں کروں گی، انتہائی دلخراش واقعہ ہے، جس پر مجھے شدید دکھ ہے۔ دوسری طرف ٹیپا کی جانب سے واقعے پر مقدمہ درج کرانے کے لیے تھانہ بھاٹی دروازہ پولیس کو باضابطہ درخواست دے دی گئی، منصوبے کے ٹھیکیدار پر حفاظتی انتظامات نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ٹیپا کے مطابق سائٹ ٹھیکیدار کے حوالے کرنے کے بعد مکمل ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد تھی، اوپن اور غیر محفوظ مین ہول حادثے کا سبب بنا، درخواست میں ٹھیکیدار کے پراجیکٹ منیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو نامزد کیا گیا۔ ٹیپا کے مطابق بیریکیڈنگ، وارننگ سائنز اور مین ہول کور فراہم نہیں کیے گئے، درخواست میں کہا گیا کہ واقعہ سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، ذمہ داران کے خلاف تعزیری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔ علاوہ ازیں ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم معطل کر دی، معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔ قبل ازیں پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کیا گیا تھا، کنٹریکٹر پر فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی گئی، پراجیکٹ پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا، ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کی معطلی اور محکمانہ کارروائی و انکوائری کی سفارش کی، منصوبے میں نیسپاک ٹیم کے کردار کو بھی انکوائری کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔