ایران میزائلوں کے میدان میں ایک سپر پاور ہے، اسرائیلی جنرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ایران کے ممکنہ اہداف کا ذکر کرتے ہوئے صیہونی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں ان کے پاس میزائلوں کی تعداد اتنی ہی ہے اور وہ حیفہ سے بیر شیبہ تک میزائلوں کے ایک سلسلے کو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ اسرائیلی زندگی کو مفلوج کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک ممتاز صہیونی جنرل نے ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کسی بھی جارحانہ اقدام کے نتائج پر اسرائیل کے لیے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ خبررساں ادارے تسنیم کے انٹرنیشنل گروپ کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ کی دھمکیوں اور صیہونی حکومت کے لیے تناؤ میں اضافے کے نتائج کے بارے میں عبرانی حلقوں کے تجزیے کے تسلسل میں، عبرانی اخبار معاریف نے اپنے ایک مضمون میں صہیونی فوج کے محکمہ دفاع کے ریزرو جنرل اور سابق کمانڈر جنرل تسویکا ہیمووچ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کوئی بھی حملہ کیا تو ایران اسرائیل کے خلاف جوابی حملہ کرے گا۔
صہیونی جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جو نظر آتی ہے، میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کو کم نہ سمجھیں، خاص طور پر میزائل اور فضائی میدان میں، چونکہ ایرانی اس علاقے میں ایک قسم کی سپر پاور ہیں۔ مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم ابھی ایک دوڑ میں ہیں، اور میں نے جون کی جنگ کے بعد کہا تھا کہ ایران کی دھمکیاں اور ارادے ایک جیسے ہیں، ایرانیوں کی خاصی توجہ میزائل کی تیاری پر ہے اور وہ میزائلوں کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے وہ میزائل بنانے میں واپس چلے گئے، ایرانیوں کے پاس اب بھی کارگر میزائل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب آپ تمام اعداد و شمار کو اکٹھا کرتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ سے پہلے ایرانی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ اب بھی موجود ہے اور اس طرح جون میں اسرائیل کے ساتھ جو ہوا تھا وہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔ صہیونی جنرل نے ایرانی میزائلوں کی موجودہ تعداد اور مستقبل میں کسی بھی تصادم میں ایران کے اہداف کا ذکر کیا اور کہا کہ میرے خیال میں ان کے پاس میزائلوں کی تعداد اتنی ہی ہے اور وہ حیفہ سے بیر شیبہ تک میزائلوں کے ایک سلسلے کو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ اسرائیلی زندگی کو مفلوج کرنا ہے، ایرانی اس بار اسٹریٹجک مقامات کے بجائے اسرائیل کے آبادی والے علاقوں کا انتخاب کریں گے، جس سے اسرائیل کے ہوم فرنٹ پر حملوں کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، ایرانی نقطہ نظر سے ان کے پاس بہت سے آپشنز اور بہت سے امکانات ہیں کہ وہ اس جنگ میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میزائلوں کے اسرائیل کے ایران کے کے خلاف کے پاس ہے اور
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔