data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران،نیویارک،اسلام آباد، استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے کسی بھی جنگی صورت حال کے پیش نظر امریکا کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بتایا کہ بغیر پائلٹ کے اْڑان بھرنے والے ان ڈرونز میں بارودی مواد لے جانے اور ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرونز جون 2025 میں امریکا کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے تجربات اور ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔یہ ڈرونز ایرانی فوجی ماہرین نے وزارت دفاع کے تعاون سے تیار کیے ہیں اور انہیں مختلف آپریشنل زمروں میں ڈیزائن کیا گیا ہے جن میں اسٹرائیکر یعنی حملہ کرنے اور جاسوسی و نگرانی کرنے والے ڈرونز بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں الیکٹرانک وارفیئر بھی بیڑے کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرونز زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر متحرک اور ساکن اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج کے لیے اسٹریٹیجک برتری کو برقرار رکھنا اور اسے مزید بڑھانا ایک مستقل ترجیح ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں تیز رفتار اور فیصلہ کن ردعمل کے لیے تیاری ایران کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔علاوہ ازیںوزیراعظم شہبازشریف کا ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی جمعرات کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے خطے میں امن،سلامتی، ترقی کیلیے پائیدار مذاکرات، سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے اعلیٰ سطح روابط اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔علاوہ ازیںایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکرٹری علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا۔علی شمخانی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں ایران فوری، جامع اور بے مثال ردعمل دے گا جس میں تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران کی دفاعی کونسل کے رکن علی شمخانی نے یہ انتباہ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں دیا، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی حالیہ تعیناتی کے ردعمل میں تھا۔علی شمخانی نے محدود فوجی حملے کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی کارروائی کو جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔انہوں نے لکھا کہ محدود حملہ ایک خام خیالی ہے۔ امریکا کی جانب سے کسی بھی مقام اور کسی بھی سطح پر کی جانے والی فوجی کارروائی کو جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا اور اس کا جواب فوری، جامع اور بے مثال ہوگا جو تل ابیب کے قلب اور جارح کے تمام حامیوں کو نشانہ بنائے گا۔ادھرایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب بات چیت ایمانداری اور حقیقی ہو۔انھوں نے کہا،اگرچہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکی صدر اس قسم کی بات چیت کے خواہاں ہیں وہ صرف اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔اس انٹرویو میں، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے حالیہ مظاہروں کے لیے ’غیر ملکیوں‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ ’منصوبہ‘ بیرون ملک ڈیزائن کیا گیا تھا۔قالیباف نے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کا ذکر کیے بغیر امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ایرانی حکومت حالیہ بے امنی میں مرنے ہونے والے تقریباً 300 سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔علاوہ ازیںامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئی ہے۔امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی معیشت زوال کا شکار ہے، ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوں گے، ایران کے حالیہ مظاہروں میں یقینی طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔قبل ازیں فرانسیسی حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی حمایت کر دی۔ایکس پر جاری بیان میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں آئی آر جی سی کو شامل کرنے کی حمایت کریں گے، اس حوالے سے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جمعرات کو برسلز میں ہوگا۔خیال رہے کہ یورپی یونین کے کچھ ارکان نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نام نہاد دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ پیر کے روز اطالوی وزیر خارجہ نے بھی ملک کی سابقہ پوزیشن کو تبدیل کرتے ہوئے ایسے اقدام کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ روز فرانس نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو نام نہاد دہشت گردوں کی فہرست میں شامل رکھنے کی مخالفت کی تھی، اس پر یورپی سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ پیرس کو تشویش ہے کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے جیسے اقدام سے تہران کے ساتھ مواصلاتی راستے مکمل طور پر منقطع ہو جائیں گے۔ادھر ترکیے نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔ترک وزارت خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ ترکی کے موقع پر ترک وزیر خارجہ حکان فدان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مکالمے کے ذریعے تناؤ میں کمی پر بات کریں گے۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ موجودہ حساس صورتحال میں سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات جمعہ کو متوقع ہے۔دوسری جانب ترکی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اپنی سرحدی سیکورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے اور وہاں کی حکومت کمزور ہوتی ہے۔ تو ترکی اضافی اقدامات کے تحت سرحدی نگرانی سخت کرے گا۔دریں اثناء روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کو بتایا کہ ماسکو ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ کریملن مذاکرات میں اس معاملے پر ان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔محمد بن زاید النہیان روس کے سرکاری دورے کے آغاز پر آج ماسکو پہنچے۔متحدہ عرب امارات نے جمعہ اور سنیچر کو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے سہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کی، جن میں روس، یوکرین اور امریکا کے نمائندے شریک ہوئے۔ اگلے ہفتے ابوظبی میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔اس سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کے خلاف طاقت کا کوئی بھی حربہ خطے میں ’افراتفری‘ پیدا کر سکتا ہے اور خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔دمتری پیسکوف نے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد دیے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے تک پہنچنا ہوگا، بصورت دیگر اسے امریکی فوجی کارروائی کے امکان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا کی جانب سے پاسداران انقلاب فوجی کارروائی علی شمخانی نے کے لیے تیار کے درمیان نے کہا کہ ایران کی کہ ایران کو نشانہ ایران کے کے مطابق انھوں نے بات چیت کا کہنا کے ساتھ کسی بھی تھا کہ

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا