امریکی فوجی کارروائی جنگ تصور، حملے کی صورت میں تل ابیب کو نشانہ بنایا جائے گا، علی شمخانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران:ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سکریٹری اور دفاعی کونسل کے رکن علی شمخانی نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی امریکی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، اگر امریکا نے کوئی حملہ کیا تو ایران کا ردعمل فوری، جامع اور بے مثال ہوگا، جس میں تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دھمکیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی کے تناظر پر ردعمل دیتے ہوئے علی شمخانی نےکہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، ایران کے لیے جنگ کے مترادف ہوگی، امریکا کی جانب سے کسی بھی مقام اور کسی بھی سطح پر کی جانے والی فوجی کارروائی کو جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا اور اس کا جواب فوری، جامع اور بے مثال ہوگا جو تل ابیب کے قلب اور جارح کے تمام حامیوں کو نشانہ بنائے گا۔
علی شمخانی نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کریں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، یہ بحری بیڑا وینزویلا بھیجے گئے بحری بیڑے سے بھی بڑا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنے مشن کو فوری طور پر مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی قیادت اور اعلیٰ دفاعی حکام مسلسل یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ایران کو مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوجی کارروائی علی شمخانی کسی بھی کی جانب کی فوجی
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔