حکومت نے پی آئی اے کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آ باد:
وفاقی سیکریٹری نجکاری عثمان باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری ترجیح ہے۔
سینیٹر افنان اللہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس ہوا جس میں دوران بریفنگ سیکریٹری وزارت نجکاری نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور ترکیہ نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر نجکاری کے بجائے اوپن بڈنگ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جو ملک یا کمپنی زیادہ قیمت دے گی، ایئرپورٹ کا انتظام اس کے حوالے ہوگا، اسلام آباد کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹ کو بھی آوٹ سورس کیا جائے گا۔
سیکریٹری نجکاری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کو آوٹ سورس کرنے کے لیے مالی مشیر کا تقرر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، تینوں ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ کے بعد موجودہ عملہ دیگر چھوٹے ایئر پورٹس پر لگانے کا منصوبہ ہے۔
عثمان باجوہ نے بتایا کہ2024 میں پی آئی اے کی نجکاری کامیاب نہیں ہو سکی تھی، اس موقع پر سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ عارف حبیب گروپ کے خلاف ایک درخواست سپریم کورٹ میں ہے کیا اس کا فیصلہ پو گیا، جس پر سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اداروں سے جانچ پڑتال کروائی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی یا بلیک لسٹ والی چیز ہمارے سامنے نہیں آئی، عدالت کے فیصلے کا بھی کوئی مواد سامنے نہیں آیا۔
سینیٹر پلوشہ نے سوال کیا کہ کیا عارف حبیب گروپ کے خلاف مسابقتی کمیشن کا عائشہ اسٹیل والا فیصلہ بھی نہیں ملا، سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری کمیشن کو کسی ادارے سے ایسا کوئی فیصلہ موصول نہیں ہوا۔
سینیٹر بلال احمد کا کہنا تھا کہ بولی دہندگان کو بغیر ایوی ایشن تجربہ کس طرح بولی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی، سینیٹر افنان اللہ خان نے جواب دیا کہ نجکاری کے لیےایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔
سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ اگر ریڑھی پر رکھ کر چیزیں بیچنی ہیں تو پھر ٹھیک ہے، اس سے پہلے نجکاری سے بہت سارے لوگ اس لیے ڈس کوالیفائی کیے گئے کہ وہ تکنیکی معیار پورا نہیں کرتے تھے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ٹینڈر کا معاملہ نہیں نجکاری ہے، نجکاری کا ٹینڈر کے طریقہ کار سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، نجکاری طریقہ کار کی حکومت اور عالمی اداروں نے بھی منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لیے کنسورشیم کے حصہ لینے کی شروع سے اجازت تھی، اسلام آباد ائیر پورٹ کی یا نجکاری کر دیں یا سہولیات بہتر کریں۔
سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ائیر پورٹس کی نجکاری میں دلچسپی بڑھ گئی ہے، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں داخلے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے، اس لیے نجکاری کی جائے گی۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کیا اب حکومت خود کوئی کام نہیں کر سکتی وہ سارے باہر والے کریں گے، چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ کراچی ائیر پورٹ پر چوہے گھومتے ہیں، جس پر پلوشہ خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ہاتھی نہیں چوہے گھومتے رہتے ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ حکومت ان ائیر پورٹس کی نجکاری کرے گی۔
سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں ائیر پورٹس کو چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ میں پاکستان کی مدد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی چھوٹے ائیر پورٹس کو زیادہ بہتر کر سکے گی۔
سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ حکومت ایک بار میں ہی تمام ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ کر دے، اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی بہتر رائے دے سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ائیر پورٹس کی آوٹ سورسنگ اسلام آباد ایئرپورٹ سیکریٹری نجکاری انہوں نے کہا کہ خان نے کہا کہ نے بتایا کہ میں دلچسپی نجکاری کا کی نجکاری کہ نجکاری نجکاری کے کے بعد
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔