ایران پر حملہ ہوا تو پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور کیا جائیگا، سفیر رضا امیری مقدم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
ایران پر حملہ ہوا تو پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور کیا جائیگا، سفیر رضا امیری مقدم WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران پر تشدد واقعات میں 3117 افراد جاں بحق ہوئے اور 690دہشت گرد مارے گئے۔
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا پرتشدد واقعات میں 305 ایمبولینسز اور بسیں، 24گیس سٹیشن تباہ کئے گئے، 700سٹورز، 300مکانات اور 750بینکوں کو نشانہ بنایا گیا۔رضا امیری مقدم نے مزید بتایاکہ پرتشدد ہجوم نے 414سرکاری عمارتیں اور 749پولیس سٹیشن تباہ کئے، 120صحت مراکز ، 200سکول اور 350 مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی امید ہے کہ صورتِ حال جنگ کی طرف نہیں جائے گی تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو یہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کو خفیہ طور پر پمز اسپتال لایا گیا اور ان کی آنکھ کی سرجری کی گئی، سلمان اکرم راجا عمران خان کو خفیہ طور پر پمز اسپتال لایا گیا اور ان کی آنکھ کی سرجری کی گئی، سلمان اکرم راجا فیڈرل گورنمنٹ ہاوسنگ ایمپلائز کا شاہ اللہ دتہ میں پائپ لائن کیلئے کئے گئے ایوارڈ میں شامل مکانات کیخلاف آپریشن کا فیصلہ پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا، سلمان اکرم راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات شوہر حق مہر میں لکھی گئی رقم کی ادائیگی کا پابند ہے، چیف جسٹس آئی سی سی آئی میں سینئر سفارتکاروں اور کمرشل قونصلرزکی گول میز کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں مین ہولز کورز لگانے، فٹ پاتھوں کی مرمت اور کرب سٹونز کی بحالی کی وسیع مہم کا آغازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سفیر رضا امیری مقدم ایران پر پر حملہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔