اسلام آباد:

انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف استغاثہ کی درخواست پر حذف کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے استغاثہ کی درخواست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم جاری کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں موجود غلطی کی درستی کے لیے استغاثہ نے درخواست دائر کی، غلطی سے چار ممالک کا نام فیصلے میں لکھا گیا تھا اور اسٹینوگرافر نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ فیصلے کی تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹینوگرافر کے مطابق جملہ حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا تاہم اسٹینوگرافر کی غلطی میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔

جج اضل مجوکہ نے فیصلے میں کہا کہ موجودہ مقدمے میں مذکورہ جملے کی کوئی قانونی حیثیت یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا لہٰذا 561 اے کے تحت عدالت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کی درستی کر سکتی ہے۔

 عدالت نے تحریری فیصلے میں جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا اور درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔

یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے متنازع ٹوئٹس میں 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے سیکن 9 کےتحت 5 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت  10 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ روپے جرمانہ اور سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید و 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائیں اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حذف کرنے کا حکم ایمان مزاری فیصلے میں سال قید

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟