ایمان مزاری ٹوئٹس کیس فیصلہ، عدالت کا ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف استغاثہ کی درخواست پر حذف کرنے کا حکم دے دیا۔
انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے استغاثہ کی درخواست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم جاری کیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں موجود غلطی کی درستی کے لیے استغاثہ نے درخواست دائر کی، غلطی سے چار ممالک کا نام فیصلے میں لکھا گیا تھا اور اسٹینوگرافر نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ فیصلے کی تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹینوگرافر کے مطابق جملہ حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا تاہم اسٹینوگرافر کی غلطی میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔
جج اضل مجوکہ نے فیصلے میں کہا کہ موجودہ مقدمے میں مذکورہ جملے کی کوئی قانونی حیثیت یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا لہٰذا 561 اے کے تحت عدالت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کی درستی کر سکتی ہے۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا اور درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے متنازع ٹوئٹس میں 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے سیکن 9 کےتحت 5 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ روپے جرمانہ اور سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید و 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائیں اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حذف کرنے کا حکم ایمان مزاری فیصلے میں سال قید
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔